نئی دہلی ،9/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) شری رام فائنانس کے ماہانہ شری رام موبلی بلیٹن کے مطابق جون کے دوران آٹوموبائل ایندھن کی آسمان چھوتی قیمتوں کے باعث ملک کے اہم مال برداری راستوں پر ٹرکوں کے کرایےکافی بڑھے رہے، حالانکہ فریٹ (مال برداری) کی مجموعی طلب بدستور کمزورہی رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مانسون کے باعث جولائی میں بھی لاجسٹک شعبے کی سرگرمیاں محدود رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق دہلی- کولکاتا،ممبئی-کولکاتا، دہلی - بنگلور، دہلی-ممبئی ، دہلی- حیدر آباد،دہلی-چنئی اور ممبئی-چنئی جیسے اہم روٹس پر جون کے دوران ٹرک کرایوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم بنگلور۔کولکاتا اور بنگلور۔ممبئی روٹس پر کرایے تقریباً مستحکم رہے، جس سے جنوبی علاقوں میں نسبتاً کمزور طلب کی عکاسی ہوتی ہے۔سالانہ بنیاد پر دہلی -کولکاتا روٹ پر ٹرکنگ سرگرمیوں میں تقریباً ۱۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ بنگلور-ممبئی روٹ پر تقریباً ۱۱؍فیصد اورممبئی-چنئی اور دہلی-ممبئی روٹس پر ۷؍ سے ۸؍فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو طویل فاصلے کی مال برداری کی مسلسل طلب کی نشاندہی کرتا ہے۔
گاڑیوں کی فروخت کے اعداد و شمار بھی ملا جلا رجحان ظاہر کرتے ہیں۔ جون میں بسوں کی فروخت میں ماہانہ بنیاد پر تقریباً ۲۴؍ فیصد اور زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں ۱۸؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کمرشیل ٹریکٹروں اور ارتھ موونگ مشینری کی فروخت میں بھی بالترتیب تقریباً ۱۲؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس مسافر کاروں کی فروخت میں تقریباً ۲؍ فیصد اور الیکٹرانک رکشا کی فروخت میں ۳؍ فیصد کمی آئی ہے۔سالانہ بنیاد پر گڈز کیریئر گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً ۲۱؍ فیصد، مسافر کاروں میں۲۸؍ فیصد اور تین پہیوں والی مال بردار گاڑیوں میں ۴۲؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا، جو لاجسٹک اور ذاتی نقل و حمل دونوں شعبوں میں مضبوط طلب کو ظاہر کرتا ہے۔شری رام فائنانس کی موبلٹی رپورٹ کے مطابق برقی گاڑیوں (ای وی) کی فروخت میں بھی تیزی برقرار رہی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی ایندھن پر انحصار کے بجائے صارفین دیگر ذرائع پر بھی غور کررہے ہیں۔ اس سے مارکیٹ کے تنوع کا اندازہ بھی ہوتا ہے لیکن روایتی ایندھن کی قیمت اب بھی تشویش کا سبب ہے۔