پٹنہ، 16 /جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کو تقریباً 7 برس گزر چکے ہیں، اس لیے اس مرحلے پر اس میں مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ 2018 سے زیر التوا اپیل کی جلد سماعت ہونی چاہیے تاکہ معاملے کا حتمی تصفیہ ممکن ہو سکے۔
مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے 12 جولائی 2019 کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ لالو پرساد یادو کو سزا کی معطلی کا فائدہ اس بنیاد پر دیا گیا کہ وہ اپنی نصف سزا مکمل کر چکے تھے، جبکہ سزا کی مدت کے حساب کتاب میں قانونی طور پر اختلاف موجود ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت میں دلیل دی کہ چارہ گھوٹالہ کے مختلف مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کیا جانا چاہیے، جب تک کہ کسی عدالت کی جانب سے اس کے برعکس کوئی واضح حکم نہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سزائیں الگ الگ شمار کی جائیں تو نصف سزا مکمل ہونے کے دعوے کی قانونی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔
دوسری جانب، لالو پرساد یادو کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے مرکزی تفتیشی بیورو کے مؤقف کی مخالفت کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مختلف مقدمات میں دی گئی سزائیں ایک ساتھ شمار ہوں گی یا الگ الگ، اس کا فیصلہ اپیل کی آخری سماعت کے دوران کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے لالو پرساد یادو کو وہی راحت فراہم کی تھی، جو نصف سزا مکمل کر چکے دیگر مجرموں کو بھی دی گئی تھی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے سزا کی معطلی کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے مرکزی تفتیشی بیورو کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد لالو پرساد یادو نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔