نئی دہلی، 14/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ۲۰؍ جولائی سے شروع ہو رہا ہے، جس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان متعدد اہم قومی، سیاسی اور آئینی معاملات پر گرما گرم بحث اور ہنگامہ آرائی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
۱۹؍ نشستوں پر مشتمل یہ اجلاس ۱۳؍ اگست تک جاری رہے گا، جس میں حکومت کئی اہم آئینی اور انتخابی اصلاحاتی بل پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد "انڈیا" مہنگائی، بے روزگاری، نیٹ-یو جی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دیگر عوامی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے مرکزی حکومت نے اجلاس سے قبل ۱۹؍ جولائی کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے، تاکہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعاون حاصل کیا جا سکے۔
اس سے قبل پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اجلاس کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس ۲۰؍ جولائی ۲۰۲۶ء سے ۱۳؍ اگست ۲۰۲۶ء تک جاری رہے گا، جس میں قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر بامعنی بحث، تبادلۂ خیال اور قانون سازی کی جائے گی۔
حکومت کے قانون سازی کے ایجنڈے میں متعدد اہم آئینی ترامیم شامل ہونے کی توقع ہے۔ ان میں سب سے نمایاں مجوزہ آئین (۱۳۰؍ ویں ترمیم) بل ہے، جس کے تحت اگر وزیر اعظم، کوئی وزیر اعلیٰ یا کابینہ کا کوئی وزیر مسلسل ۳۰؍ دن تک عدالتی حراست میں رہے تو اسے خودکار طور پر اپنا عہدہ چھوڑنا ہوگا۔ اس مجوزہ قانون پر آئینی اختیارات، جواب دہی اور قانونی عمل کے حوالے سے وسیع بحث متوقع ہے۔
اسی طرح حکومت خواتین کو قانون ساز اداروں میں ۳۳؍ فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے آئین (۱۳۱؍ ویں ترمیم) بل دوبارہ پیش کر سکتی ہے۔ اس بل کے تحت نئی حلقہ بندی کے بعد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ لوک سبھا کی نشستوں میں اضافے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
مانسون اجلاس میں حکومت ون نیشن، ون الیکشن (ایک ملک، ایک انتخاب) سے متعلق قانون سازی کو آگے بڑھانے کے علاوہ فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے) میں ترامیم بھی پیش کر سکتی ہے۔