09-01-2025
’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ یعنی ایک ملک، ایک انتخاب کے تصور پر غور و فکر کرنے کے لیے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کی پہلی میٹنگ آج دہلی میں منعقد ہوئی۔ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران ایک ساتھ انتخابات کرانے کے لیے ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘ کی تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت 39 رکنی جے پی سی تشکیل دی گئی تھی۔
View more
22-12-2024
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے "ون نیشن ون الیکشن" کو علاقائی جماعتوں کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ راجستھان میں جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اس بل پر تفصیلی بحث کرنی چاہیے تاکہ تمام پہلوؤں پر غور کیا جا سکے اور کسی جامع نتیجے تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے پر مکمل بحث ضروری ہے تاک
View more
21-12-2024
لوک سبھا میں ’ون نیشن، ون الیکشن‘ بل کی منظوری کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) میں بھیج دیا گیا۔ ابتدائی طور پر اس کمیٹی میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے مل کر مجموعی طور پر 31 اراکین شامل کیے گئے تھے، لیکن اب اس تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پارلیمانی اراکین کی درخواست پر ’ون نیشن، ون الیکشن‘ بل کے جائزے کے لیے جے پی سی میں مزید 8 اراکین شامل کیے گئے ہیں، جس سے کمیٹی کی کل تعداد 39 ہو گئ
View more
19-12-2024
ہندوستان میں ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کے لیے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں کل 31 اراکین شامل ہیں، جن میں 21 لوک سبھا سے اور 10 راجیہ سبھا سے نامزد کیے گئے ہیں۔
View more
18-12-2024
راجیہ سبھا میں 17 دسمبر کو ایک اہم قرارداد پر ووٹنگ ہوئی، جس میں تمام پارٹی اراکین کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے حکمران جماعت کی جانب سے پہلے ہی تین سطری وہپ جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، حیران کن طور پر بی جے پی کے تقریباً 15 سے زائد اراکین ووٹنگ کے دوران ایوان سے غیر حاضر رہے۔ یہ غیر حاضری پارٹی کے لیے باعث تشویش ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بی جے پی اپنی اکثریت کو مظبوط دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
View more
17-12-2024
لوک سبھا میں آج ’ون نیشن، ون الیکشن‘ یعنی ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے معاملے پر خاصی گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے اس بل کی شدید مخالفت کی، تاہم ایوان میں ووٹنگ کے بعد بل کو پیش کر دیا گیا۔ ووٹنگ کے دوران 269 اراکین پارلیمنٹ نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا، جبکہ 198 اراکین نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ بعد ازاں مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال کی درخواست پر یہ بل مزید غور و خوض کے لیے جو
View more
Your experience on this site will be improved by allowing cookies
Cookie Policy