حیدرآباد30نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) تلنگانہ کے رنگاریڈی ضلع میں 26 سالہ مویشی ڈاکٹر کی آبروریزی کے بعد قتل کے چاروں ملزمان کو عدالت نے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ کورٹ کے حکم کے بعد ملزمان کو شادنگر پولیس تھانہ سے چنچل گوڑا جیل پہنچادیا گیا۔ اس حادثہ کے وقوع کے بعد ملک کے تمام حلقہ میں سخت غم و غصہ ہے۔ ہفتہ کو حیدرآباد کے شادنگر تھانہ کے باہر عوام نے مظاہرہ کیااور ملزمان کو بغیر کسی سماعت کے پھانسی پر چڑھانے یا ان کا انکاؤنٹر کئے جانے کی بھی مانگ کردی۔ دریں اثنا مقامی بار ایسوسی ایشن نے ملزمان کی پیروی سے انکار کر دیا ہے۔ پولیس نے کورٹ میں ملزمان کی پیشی کے دوران سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔حلقہ کے ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے بھی شادنگر پولیس تھانہ میں ملزمان سے پوچھ گچھ کی۔ویٹرنری خاتون ڈاکٹر گھر سے تقریبا ً30 کلو میٹر دور واقع اسپتال میں کام کرتی تھی۔ گھر لوٹتے وقت بدھ کی رات اس کے ساتھ اجتماعی آبروریزی ہوئی۔ اس کے بعد جمعرات کی صبح ڈاکٹر کی لاش اد ھ جلی حالت میں ملی تھی۔لیڈی ڈاکٹر سے درندگی کا معاملہ جمعہ کو شہ سرخیوں میں آیا۔ اس کے بعد سائبرآباد پولیس نے چار وں ملزمان، محمد عارف، جولو شیوا، جولو نوین اورچننا کیشوویلو کو گرفتار کرلیا۔ عارف کی عمر 26 سال ہے، جبکہ باقی ملزمان کی عمر 20 سال سے بھی کم ہے۔ ان تمام ملزمان کی گرفتاری نارائن ضلع سے ہوئی۔ یہ تمام ٹرک ڈرائیور اور کنڈیکٹر ہیں، جنہوں نے شراب پینے کے بعد 7 گھنٹے تک ڈاکٹر کے ساتھ درندگی انجام دی تھی۔ اس کے بعد متاثرہ کو شادنگر کے مضافاتی علاقہ میں مٹی کا تیل چھڑک کر جلا دیا تھا۔مقامی کورٹ سے متعلقہ بار ایسوسی ایشن نے واقعہ کے چاروں ملزمان کا کیس لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے کہا کوئی بھی وکیل عدالت میں چاروں ملزمان کی پیروی کرنے نہیں جائے گا اور انہیں قانونی امداد بھی دستیاب نہیں کرائی جائے گی۔ آبروریزی اور قتل کے ملزمان کو محبوب نگر کے فاسٹ ٹریک کورٹ میں پیش کیا گیا۔ڈاکٹر کے قتل اور آبروریزی کے خلاف حیدرآباد میں مظاہرہ کر رہے لوگوں نے بنگلور شاہراہ جام کر دیا۔ مظاہرہ میں بڑی تعداد میں اسکولی بچے بھی شامل ہوئے۔ دارالحکومت دہلی میں بھی واقعہ کے بعد خواتین کے تحفظ کے معاملے پر طالبات اور اسکولی بچوں نے پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کیا۔ دریں اثنا ہفتہ کو قومی خواتین کمیشن کی صدرریکھا شرما مقتولہ کے اہل خانہ سے ملنے پہنچیں۔ انہوں نے بتایا کہ اہلِ خانہ پولیس کے رویے سے ناراض ہیں۔ پولیس اپنی سرحدی لکیر کو لے کر لڑ رہی تھی، اس کی وجہ سے کارروائی میں تاخیر ہوئی۔ اگر پولیس بروقت تیزی دکھاتی، تو انہیں بچایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک عدالتی نظام ہے جس کا ہم پیروی کریں گے، لیکن اس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے اور قصورواروں کو سزائے موت ملنی چاہئے۔ معاملہ کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلایا جانا چاہئے۔تلنگانہ کی گورنر ڈاکٹر تیمیلی سئی نے بھی متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے ان کی تعزیت کی ہے۔