بھٹکل 10؍جنوری (ایس اونیوز) گذشہ روز کاروار میں تین پریس رپورٹروں کے خلاف پولس تھانہ میں معاملہ درج کئے جانے پر کاروار میں اخبارنویسوں نے احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو میمورنڈم پیش کیا تھا، اُسی طرح کا ایک میمورنڈم بدھ کو بھٹکل تحصیلدار کو بھی پیش کیا گیا ہے جس میں پریس رپورٹروں کے خلاف معاملات درج کرنے پر سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
’ بھٹکل پترکرتا سنگھا‘ کے صدر رامچندر کینی نے تحصیلدار کو بتایا کہ عوام کے مسائل ، سرکاری افسران کی کوتاہی جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ عوام یا افسران کی طرف سے کیے گئے بہتر اقدامات کی ستائش کرنے اور اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان پر حملے کرنے کی وارداتیں آج کل بڑھتی جارہی ہیں۔جس کی اسوسی ایشن سخت مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کماراسوامی کے نام میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کہا کہ کاروار کے سرکاری انجینئرنگ کالج میں نقل نویسی کی خبر ملی تھی۔ اس تعلق سے رپورٹ تیار کرنے کے لئے 5جنوری کو کاروار کے تین صحافیوں پر کالج میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور امتحان کے دوران فوٹو گرافی کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کاروار کے چیتاکول پولیس اسٹیشن میں جھوٹا کیس داخل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس طرح کے جھوٹے کیس داخل کرکے پریس کی آزادی پر روک لگانے کی کوشش کو لائق مذمت قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں پر دائر کیا گیا جھوٹا کیس فوری طور پر واپس لیاجائے۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ کاروار میں ڈپٹی کمشنر دفتر کے احاطے میں پہلے منزلے پر واقع سروے ڈپارٹمنٹ کے باہر صحافیوں کو نیوز بنانے کی اجازت نہیں ہے۔بلکہ وہاں ضلع ڈی سی کی پیشگی اجازت لینے کی نوٹس چسپاں کردی گئی ہےاس کے علاوہ ہر ڈپارٹمنٹ میں نیوز بنانے سے پہلے صحافیوں کو ڈی سی کے دفتر پہنچ کر اجازت لینا ممکن نہیں ہے، اس لئے پریس کو اپنی آزادی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔میمورنڈم میں عوامی مفاد کو نقصان پہنچانے اورجھوٹے کیس داخل کرکے پریس کی آزادی چھین لینے کی کوشش کرنے والے افسران کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ا س موقع پر شنکر نائک، وشنو دیواڈیگا، راگھویندرابھٹ، سبرامنیا بھٹ، منموہن نائک ، یحییٰ ہلارے، منجو ناتھ نائک، اودئے نائک، پرسنّا بھٹ، وسنت دیواڈیگا اور دیگر کئی میڈیا سے جُڑے افراد موجود تھے۔