بنگلورو،6؍دسمبر(ایس او نیوز)آئی ایم اے کیس کے سلسلہ میں سی بی آئی کی طرف سے گرفتار سابق وزیر آر روشن بیگ کو ہفتہ کے روز سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مشروط ضمانت پر رہا کرنے کا حکم صادر کیا۔ دوران تحویل روشن بیگ کی صحت بگڑ جانے کے سبب ان کے وکیلوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں ضمانت دیدی جائے۔
عدالت نے اس کیس کی جانچ میں سی بی آئی سے تعاون کرنے اور شوااہد کو نقصان نہ پہنچانے کی شرط پر روشن بیگ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے روشن بیگ کی عرضی ضمانت پر اپنا فیصلہ جمعہ کے روز ہی محفوظ کر لیا تھا۔ ہفتے کے روز عدالت نے اپنے فیصلہ کا اعلان کیا اور انہیں ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت جاری کی۔
بتایا جاتا ہے کہ جمعہ کے روز سی بی آئی نے انہیں ضمانت پر رہا کئے جانے کی مخالفت کی تھی تاہم روشن بیگ کی طرف سے عدالت میں پیش ہو کر سینئر وکیل ششی کرن نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر کی صحت کی بنیاد پر انہیں ضمانت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے 2018کا ایک معاملہ لے کر روشن بیگ کو گرفتار کیا جبکہ اس معاملہ کی جانچ میں سی بی آئی کو روشن بیگ کی طرف سے بھر پور تعاون ملا ہے۔
ششی کرن نے کہا کہ سی بی آئی نے اس معاملہ کی جانچ میں روشن بیگ کی طرف سے پورا تعاون لینے کے بعد بھی انہیں اس کیس میں گرفتار کر کے ان پر الزامات لگائے ہیں۔ عدالت کو ششی کرن نے بتایا کہ سی بی آئی نے روشن بیگ پر جو الزامات عائد کئے ہیں ان کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔
آئی ایم اے کیس میں اب تک 36ملزمین کوگرفتار کیا گیاہے ان میں سے 35کی ضمانت ہو چکی ہے۔ صرف آئی ایم اے کے سربراہ منصور خان کی ضمانت انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے ایک کیس کے سلسلہ میں نہیں ہو پائی ہے۔
روشن بیگ کے فرزند آر رومان بیگ نے اپنے والد کی رہائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کی طرف سے اس کیس کے ایک ملزم کی طرف سے روشن بیگ پر لگائے گئے بے بنیاد الزام کی بنیاد پر روشن بیگ کوحراست میں لیا گیا۔ عدالت میں سی بی آئی کی طرف سے الزامات کی تائید میں کوئی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں مقدمہ کے آگے کے مرحلہ میں بھی سی بی آئی کی طرف سے ان بے بنیاد الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکے گا۔