لکھنؤ،7؍مارچ (ایس او نیوز؍یواین آئی) اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر لکھنؤ انتظامیہ نے شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد میں مبینہ طور سے ملوث افراد کی ہورڈنگ مع تصویر اور پتے کے شہر کے متعدد مقامات پر لگائے ہیں۔
جمعرات کی دیررات شہر کے مختلف مقامات پر لگائی جانے والی ہورڈنگوں میں مولانا آصف عباس، ریٹائرڈ آئی پی ایس ایس دارا پوری اور کانگریس لیڈر صدف جعفر سمیت متعدد دیگر افراد کے نام شامل ہیں جنہیں 19دسمبر کو ہوئے تشدد کا ملزم بنایا گیا ہے۔
لکھنؤ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ابھیشیک پرکاش نے جمعہ کو بتایا کہ لکھنؤ ضلع انتظامیہ کی جانب سے تشدد میں ملوث ہونے و الے افراد کی شناخت کے بعد ان کی تصاویر مع ان کے نام اور پتے کے شہر کے کئی مقامات پر ہورڈنگ کی شکل میں لگائے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پورے شہر میں تقریبا 100ہورڈنگس لگائی گئی ہیں۔ڈی ایم نے بتایا کہ شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد میں ملوث افراد کے خلاف نقصانات کی تلافی کو نوٹس جاری کیا گیا ہے اور اگر وہ نقصانات کی ریکوری کرنے میں ناکام رہے تو ان کی ملکیت کو ضبط کیا جائے گا۔لکھنؤ انتظامیہ نے تشدد کے دوران نقصانات کا تخمینہ 1.55کروڑ روپئے لگایا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق انتظامیہ نے ٹھاکر گنج علاقے سے 10افراد،قیصر باغ سے 6افراد کو 69لاکھ روپئے کی ریکوری کا نوٹس جاری کیا ہے۔ان سولہ افراد میں عالم دین مولانا آصف عباد اور معروف عالم دین مولانا کلب صادق کے بیٹے سبطین نوری بھی شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ احتجاج کے دوران ہوئے تشدد میں نقصانات کی تلافی کے لئے ضلع انتظامیہ نے ریکوری نوٹس جاری کرنا وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان کے بعد شروع کیا تھا جس میں انہوں نے مظاہرین سے بدلہ لینے کی بات کہتے ہوئے پراپرٹی کی نقصانات تلافی تشدد میں ملوث افراد سے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
گذشتہ 19/20دسمبر کے ریاست کے مختلف مقامات پر شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف احتجاج کے دوران اچانک تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں پتھر بازی کے ساتھ آتشزدگی اور فائرنگ بھی ہوئی تھی۔اس تشدد میں تقریبا 23افراد کی جانیں گئی تھیں اور پولیس اہلکار سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔