ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اختلاف، جمہوریت کی روح اور اس کیلئے ”سیفٹی والو‘ آئین سازوں نے ہندو بھارت یا مسلم بھارت کے تصور کومستردکردیا تھا: جسٹس چند رچوڑ

اختلاف، جمہوریت کی روح اور اس کیلئے ”سیفٹی والو‘ آئین سازوں نے ہندو بھارت یا مسلم بھارت کے تصور کومستردکردیا تھا: جسٹس چند رچوڑ

Sun, 16 Feb 2020 09:59:46    S.O. News Service

احمد آباد،16/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے اختلاف کوجمہوریت کا’سیفٹی والو‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ اختلاف کو ایک سرے سے ملک مخالف اور جمہوریت مخالف بتا دینا آئینی اقدار کے تحفظ اور ڈائیلاگ پر مبنی جمہوریت کو فروغ دینے کے تئیں ملک کے بنیادی خیال پر ضرب لگاتا ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے دو ٹوک کہا کہ آئین سازوں نے ہندو بھارت یا مسلم بھارت کے خیال کو سرے سے ہی مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے صرف ہندوستانی جمہوریت کو تسلیم کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ افکار کو دبانا ملکی ضمیر کو دبانا ہے۔ ان کا یہ حقیقت پسندانہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اورقومی آبادی رجسٹر(این پی آر) اور قومی شہریت رجسٹر(این آرسی) کے خلاف ملک کے تمام حصوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہورہے ہیں۔جسٹس چندرچوڑ نے احمد آباد میں 15 ویں، جسٹس پی ڈی دیسائی میموریل لیکچر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اختلاف روکنے کے لئے سرکاری مشینری کا استعمال خوف کا احساس پیدا کرتا ہے جو قانون کی بالادستی کے خلاف ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے یہ کہا کہ اختلاف کا تحفظ کرنا یہ یاد دلاتا ہے کہ جمہوری طور پر ایک منتخب حکومت ہمیں ترقی اور سماجی رابطوں کے لئے ایک جواز فراہم کررہی ہے، وہ ان اقدار اورشناخت پر کبھی اجارہ داری کا دعویٰ نہیں کر سکتی جو ہماری تکثیری معاشرے کو بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف روکنے کے لئے سرکاری مشینری کو استعمال کرنا خوف پیدا کرتا ہے اور آزادانہ امن پر ایک ڈراؤنا ماحول پیدا کرتا ہے جو قانون کی بالادستی کیخلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ سوال کرنے کی گنجائش کو ختم کرنا اور اختلاف کو دبانا تمام طرح کی پیش رفت سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی بنیاد کو متزلزل کرتا ہے، کیوں کہ اختلاف جمہوریت کی روح ہے اور اس کے لیے ”سیفٹی والو‘ ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے یہ بھی کہا کہ اختلاف کو خاموش کرانا اور لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہونا انفرادی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ غور طلب ہے کہ جسٹس چندرچوڑ اس بنچ کا حصہ تھے، جس بنچ نے یوپی میں سی اے اے کے خلاف مظاہروں کے دوران عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے معاوضہ وصول کرنے کے ضلع انتظامیہ کی طرف سے مبینہ مظاہرین کو بھیجی گئی نوٹس پر جنوری میں ریاستی حکومت سے جواب مانگا تھا۔


Share: