ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اسکول فیس کم کرنے کے فیصلے کے خلاف بنگلورو میں اساتذہ کی بھاری ریلی، تقریباً 25ہزار ٹیچروں کی شرکت

اسکول فیس کم کرنے کے فیصلے کے خلاف بنگلورو میں اساتذہ کی بھاری ریلی، تقریباً 25ہزار ٹیچروں کی شرکت

Wed, 24 Feb 2021 11:21:41    S.O. News Service

بنگلورو،24؍فروری (ایس او نیوز) اسکول فیس 30فی صد کم کرنے ریاستی حکومت کے فیصلہ کے خلاف اور پرائیویٹ اسکولوں کے رجسٹریشن کے لئے نئے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست بھر سے آئے ہوئے ہزاروں پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کے اراکین اور اساتذہ نے آج شہر میں بھاری ریلی نکالی۔

اس احتجاجی ریلی میں ریاست بھر کے پرائیویٹ اسکولوں کے منتظمین اور اساتذہ نے حصہ لیا۔ کہاجارہا ہے کہ 25ہزار سے زیادہ مظاہرین کی اس ریلی میں شرکت سے سنگولی رائنا ریلوے اسٹیشن تا فریڈم پارک کے اطراف واکناف کی سڑکیں جام رہیں۔ ان سڑکوں پر موٹر گاڑیوں کو گزرنے کے لئے کافی دیر انتظار کرنا پڑا۔ صبح11بجے یہ ریلی سنگولی رائنا فلائی اوور سے شروع ہوئی۔ میجسٹک، آنند راؤ سرکل اور میسور بینک سے گزرتے ہوئے فریڈم پارک پہنچی۔ اس دوران ان سڑکوں پر کافی دیر تک ٹرافک جام رہی۔فریڈم پارک کے دائیں جانب پوری سڑک پر کرسیاں بچھائی گئی تھیں جہاں مظاہرین کے لئے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔یہاں کے اسٹیج سے کرناٹک پرائیویٹ اسکول مینجمنٹ ٹیچنگ اینڈ نان ٹیچنگ اسٹاف کو آرڈی نیٹنگ کمیٹی کے عہدیداروں نے مظاہرین سے خطاب کیا۔

انہو ں نے کہا کہ پورے ملک میں کورونا وباء کی وجہ سے پرائیویٹ اسکولوں میں داخلے کم ہورہے ہیں۔والدین بھی اپنے بچوں کی فیس باقاعدہ ادا نہیں کررہے ہیں۔لیکن اسکولوں کے اخراجات حسب معمول ہیں۔ان حالات میں اسکول فیس 30فیصد کم ادا کرنے والدین کو ہدایت دینے کا حکومت کا فیصلہ پرائیویٹ اسکولوں پر ظلم سے کم نہیں۔اس فیصلہ کو حکومکت واپس لینا چاہئے۔کورونا کی وجہ سے اسکول انتظامیہ پہلے ہی سے مالی بحران کا شکار ہے۔ ان حالات میں اگر 30فیصد اسکول فیس گھٹا دی گئی تو اسکول منتظمین کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ پرائیویٹ اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے جنرل سکریٹری ڈی ششی کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ کورونا کے دوران پرائیویٹ اسکولوں کے منتظمین مالی پریشانیوں میں مبتلا رہے۔ان اسکولوں کے اساتذہ کو بھی کافی مشکلات سے گزرنا پڑا لیکن حکومت ان کی راحت کے لئے آگے نہیں آئی۔چند اسکولس بند کرنے کی نوبت بھی آئی، یہاں بھی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ اب اسکول فیس 30فیصد گھٹانے کا حکومت اخلاقی اختیار نہیں۔پرائیویٹ تعلیمی ادارے پہلے ہی سے مالی بحران میں مبتلا ہیں۔اب 30فیصد فیس کم کردی گئی تو پرائیویٹ تعلیمی ادارے اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس فیصلہ کو ہر حال میں واپس لینا ہی چاہے انہوں نے بتایا کہ پرائیویٹ اسکولوں کے رجسٹریشن کے لئے پرانے قوانین کوہٹاکر نئے قوانین نافذ کئے گئے ہیں۔یہ بھی ہمیں قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آگ حادثوں سے بچنے سرکاری اسکولوں میں معقول انتظامات نہیں تو پرائیویٹ اسکولوں پر یہ شرط کیوں نافذ کی جارہی ہے۔صرف پرائیویٹ اسکولوں کے لئے فائر پروٹیکشن لاگو کرنا درست نہیں۔انہوں نے بتایا کہ پرائیویٹ اسکولوں کے رجسٹریشن کے لئے نئے نئے قوانین نافذ کرنے سے متعلقہ سرکاری دفتروں میں رشوت اور بدعنوانی کا بازار کافی گرم ہے۔ان قوانین کو فوری واپس لینے کا انہوں نے مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کے خلاف اس احتجاجی ریلی میں شرکت کرنے والوں میں اراکین کونسل پٹنااور دیگر قائدین بھی شامل ہیں۔وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی ہدایت پر ریاستی وزیر برائے پرائمری وسکینڈری تعلیم ایس سریش کمارنے جلسہ گاہ پہنچ کر مظاہرین سے عرضداشت قبول کرتے ہوئے کہا ک اس سلسلہ میں وہ بہت جلد والدین اور اسکول انتظامیہ کااجلاس طلب کرکے یہ فیصلہ کریں گے کہ اسکول فیس کم کرنی چاہئے یا نہیں اور رجسٹریشن کے لئے نئے قوانین نافذ کئے جائیں یا نہیں۔


Share: