بنگلورو،یکم دسمبر (ایس او نیوز) کرناٹک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو ہر طریقہ سے نقصان پہنچانے کے لئے حکومت کرناٹک کی طرف سے کوئی کسر باقی نہیں رکھی جارہی ہے۔اس کی تازہ مثال کرناٹک میں نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے لئے حکومت کی طرف سے تشکیل شدہ ٹاسک فورس کی سفارشات ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ طلبا کو دی جانے والی تمام اسکالرشپس کو جن میں پسماندہ طبقات اور اقلیتی اسکالرشپ بھی شامل ہیں، ایک پورٹل کے تحت لایا جائے۔اس طرح کی سفارش سے اقلیتی اسکالرشپس جن کی رقم سینکڑوں کروڑ روپئے پر مشتمل ہے، خطرے کی تلوار لٹک جائے گی۔
سابق چیف سکریٹری ایس وی رنگناتھ کی قیادت میں قائم ٹاسک فورس نے پیر کے روز وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کو ان کی ہوم آفس کرشنا میں اپنی رپورٹ پیش کردی جس میں نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے متعلق متعدد سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ان سفارشات میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل وہ سفارش ہے جس میں ٹاسک فورس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کی طرف سے مختلف اسکیموں کے تحت طلبا کو دی جانے والی تمام اسکالرشپس کو ایک پورٹل کے تحت لایا جائے۔خاص طور پرمعاشی اور سماجی طور پر کمزور طبقات جن میں اقلیتیں بھی شامل ہیں،ان کی اسکالرشپس کو الگ نہ رکھ کرواحد پورٹل کا حصہ بنادیا جائے۔اس سفارش پر اگر عمل ہوا تویہ خطرہ ہے کہ اقلیتوں کو فی الوقت جتنی اسکالرشپس مل رہی ہیں، شاید وہ نہ مل پائیں۔اس کے علاوہ ٹاسک فورس نے سفارش کی ہے کہ اسکولوں کو کے ایس ایس ای سی اور ایس ایس ایس اے کی ہدایات کے مطابق بنیادی ڈھانچے فراہم کرنا چاہئے۔ ڈی ایس ای آر ٹی کی ازسرنو تشکیل ہو۔ہر طرح کی اسکالرشپ کے لئے ایک ہی طرح کا پلاٹ فارم تیار کرنے کا کمیٹی نے شورہ دیا ہے۔کرناٹکا اعلیٰ تعلیمی کمیشن قائم کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طلبا کے لئے بھی اسکالرشپ واحد پورٹل کے ذریعہ دینے کی سفارش کی ہے۔اقلیتی طلبا کے لئے یہ سفارش بہت خطرناک ہے۔اگر تمام پسماندہ طبقات کے طلبا کو ایک ہی پورٹل کے ذریعہ اسکالرشپ نظام کو نافذ کردیاگیا تو لاکھوں اقلیتی طلبا اسکالرشپ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک منظم سازش کے تحت ایس وی رنگناتھ کی قیادت والی کمیٹی نے یہ سفارش کی ہے۔