بنگلورو،4؍فروری(ایس او نیوز)بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی )کے قومی صدر امیت شاہ کی جانب سے یہ بیان کہ مرکزی حکومت نے کرناٹک کو 3لاکھ کروڑ روپئے دئیے ہیں مگر وہ رقم عوامی فلاح وبہبودی کے لئے استعمال نہیں کیا گیاہے محض جھوٹ کا ایک پلندہ ہے ۔یہ بات بھی مشہور ہے کہ امیت شاہ کبھی بھی بنااعداد شمار کئے بات کرتے ہیں۔ان کی باتوں میں سچائی نہیں ہوتی۔ان خیالات کا اظہار اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر دنیش گنڈو راؤنے کیا۔انہوں نے کہاکہ اس بات سے سبھی بی جے پی لیڈر اچھی طرح سے واقف ہیں کہ کرناٹک سے سب سے زیادہ ٹیکس مرکزی حکومت کو حاصل ہوتاہے۔اس کے باوجود اگر اس طرح کے بیانات دئے جارہے ہیں تو اسے حماقت ہی کہاجاسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست کو فنڈ جاری کرنے کے معاملہ میں امیت شاہ کو کسی طرح کی بیان بازی کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ۔ہاں اگر اس سلسلہ میں کسی کو بولنے کا حق ہے تو وہ ہیں وزیر اعظم نریندر مودی جی اور مرکزی وزیرخزانہ ارون جیٹلی۔اس موقع پر ریاستی وزیر زراعت کرشنا بائرے گوڈانے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کو بیان بازی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ان کی باتوں پر سچائی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔حقیقت سے انہیں کوئی لینا دینا نہیں ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈران ریاست میں پرامن فضا کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش میں ہیں۔حالانکہ وہ اس میں اب تک ناکام ہوتے رہے ہیں۔ریاستی عوام کے بارے میں انہوں نے کہاکہ یہاں کی عوام بی جے پی لیڈروں کی زہر افشانی اور ماحول کوخراب کرنے والے بیانات سے اچھی طرح واقف ہیں۔اس لئے بی جے پی اس طرح کی ہر ایک مشن میں ناکام ہورہی ہے۔مسٹر گوڈا نے کہا کہ جن پانچ ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں کی حالت نہایت ہی خراب ہے ۔ان ریاستوں میں قانون کی خلاف ورزی عام ہے ۔بی جے پی لیڈران کی غنڈہ گردی سے لوگ پریشان ہیں۔اس لئے مودی حکومت کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے ان ریاستوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔پریشان عوام کی فلاح بہبودی کے لئے ضروری اقدامات کرے۔ کانگریس لیڈروں کے بیانات سے تلملائے بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یڈیورپا نے اخباری نمائندوں کو بتایاکہ مودی حکومت نے ریاست کرناٹک کے لئے جو فنڈ جاری کیا ہے اس سے پہلے یوپی اے حکومت نے کبھی جاری نہیں کیا۔14ویں مالیاتی کمیشن کے بارے میں مسٹر یڈیورپا نے بتایاکہ اس بار کمیشن کی سفارش پر ریاستوں کوجاری کرنے والے فنڈ کو بڑھاکر 42فیصد کردیاگیا ہے۔ 14ویں مالیاتی کمیشن کے مطابق تین سال میں ریاست کرناٹک کومرکزی حکومت کی جانب سے 10.553کروڑ روپئے جاری کیاگیاہے۔حالانکہ اس میں سے مرکزی حکومت کے پاس فنڈ اب بھی باقی ہے۔مسٹر بائرے گوڈانے کہا کہ مودی حکومت کو چاہئے کہ وہ کرناٹک کے لئے مختص فنڈ کو جاری کرے ۔پہلے سے ہی اس میں کافی تاخیر ہوچکی ہے ۔اس کے علاوہ مودی کوچاہئے کہ وہ عوام کو بتائے کہ انہوں نے کرناٹک کی عوام کے لئے کتنا فنڈ جاری کیاہے اور اب تک کتنی رقم مرکزی حکومت کے پاس باقی ہے۔ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ سال 2015-16کے دوران 27302 کروڑ روپئے میں سے23,983کروڑ روپئے ہی ملے جبکہ 3,319کروڑ روپئے ابھی تک نہیں ملے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ سال 2016-17کے دوران 31,503کروڑ روپئے میں سے صرف 28,760کروڑ روپئے ہی کرناٹک کو ملے ہیں۔ابھی 2,743کروڑ روپئے مرکزکی جانب سے ملنا باقی ہے۔اسی طرح سال 2017-18 میں 36,399 کروڑ روپئے میں سے 31,908کروڑ روپئے ملے اور 4,499کروڑ روپئے باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین سال کی مدت میں مالیاتی کمیشن سے 95,204کروڑ روپئے میں سے 84,659 کروڑ روپئے ہی ملے ہیں۔حالانکہ 10,553کروڑ روپئے مرکزی حکومت کے پاس ابھی بھی باقی ہیں۔بی جے پی لیڈروں کو چاہئے کہ پہلے ان اعداد وشمار کے بارے میں جانکاری حاصل کریں اس کے بعد ہی بیان دیں ۔