نئی دہلی،12؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)80سالہ سماجی کارکن انّا ہزارے نے ایک بار پھر کسانوں کی حمایت میں آواز بلند کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد کسانوں کے مطالبات پورے کرے- متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ 16دنوں سے جاری کسانوں کے مظاہرہ کو طاقت عطا کرتے ہوئے انّا ہزارے نے مودی حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر کسانوں کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو وہ ’عوامی تحریک‘ شروع کریں گے جو ’لوک پال‘ کیلئے کی گئی تحریک کی طرح ہی ہوگی-
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق انّا ہزارے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ کانگریس حکومت کو ’لوک پال تحریک‘ کے دوران ہلا دیا گیا تھا- میں ان کسانوں کے مظاہرہ کو بھی اسی طرز پر دیکھ رہا ہوں - کسانوں کے ذریعہ کئے گئے ’بھارت بند‘ کے دن میں نے رالیگن سدھی میں اپنے گاؤں میں ایک دن کی بھوک ہڑتال کی تھی اور کسانوں کے مطالبات کو میری مکمل حمایت ہے-
مودی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اگر حکومت کسانوں کے مطالبات نہیں مانتی، تو میں ایک بار پھر ’عوامی تحریک‘ کیلئے بیٹھوں گا، جو لوک پال تحریک کے ہی برابر ہوگی-واضح رہے کہ انّا ہزارے نے اس سے قبل 8 دسمبر کو بھی کسانوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایک ریکارڈیڈ ویڈیو پیغام جاری کیا تھا- اس میں انھوں نے کہا تھا کہ میں ملک کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ دہلی میں جو تحریک چل رہی ہے، وہ پورے ملک میں چلنی چاہئے- حکومت پر دباؤ بنانے کیلئے ایسی صورت حال پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے کسانوں کو سڑکوں پر اترنا ہوگا، لیکن کوئی تشدد نہ کرے-