نئی دہلی،14؍ دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) زرعی قوانین کے خلاف اپنی تحریک کو تیز اور اسے قومی سطح پر پھیلاتے ہوئے کسان لیڈروں نے اعلان کیا ہے کہ پیر کو ملک بھر میں ضلعی صدر دفاتر پر کسان دھرنا دیں گے جبکہ احتجاج میں شامل تمام کسان تنظیموں کے لیڈر صبح 8؍ بجے سے شام 5؍ بجے تک بھوک ہڑتال کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی 19؍ دسمبر سے بے مدت بھوک ہڑتال کے پروگرام کو فی الحال ملتوی کردیاگیاہے۔
حکومت پر تحریک کو کمزور کرنے کی سازش کا الزام: کسان تحریک کی آگے کی حکمت عملی کا اعلان کرنے کیلئے اتوار کی شام منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکسان لیڈر گرنام سنگھ چندونی نے الزام لگایا کہ ’’زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے آندولن کو کمزور کرنے کیلئے حکومت سازش رچ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے پرامن طریقے سے تحریک کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’’ہمارا موقف صاف ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تینوں قوانین منسوخ ہوں،احتجاج میں شامل تمام تنظیمیں متحد ہیں۔‘‘
نوئیڈہ سرحد سے ہٹنے والی تنظیم سے اظہارِ لاتعلقی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ میٹنگ کے بعد دہلی نوئیڈہ چِلّا بارڈ سے کسان تنظیموں کے ہٹ جانے کے تعلق سے گرنام سنگھ چندونی نے واضح کیا کہ ’’کچھ گروپ ایسے ہیں جو احتجاج ختم کررہے ہیں اور قانون کی حمایت کا اعلان کررہے ہیں، ہم صاف کردینا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ وہ پہلے سے حکومت سے ملے ہوئے تھے اور آندولن کو کمزور کرنے کی سازش رچ رہے ہیں۔‘‘
جدوجہد جاری رہے گی: شیوکمار ککا
سیکوریٹی ایجنسیوں کی جانب سے برتی جارہی سختی کا حوالہ دیتے ہوئےشیوکمار ککا نے پر عزم لہجے میں کہا ہے کہ ’’سرکاری ایجنسیاں کسانوں کو دہلی پہنچنے سے روک رہی ہیں مگر یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ مطالبات منظور نہیں ہوجاتے۔‘‘ راجیش ٹکیت نے اعلان کیا کہ ’’اگر حکومت پھر بات چیت کی تجویز پیش کرتی ہے تو ہماری کمیٹی اس پر فیصلہ کریگی۔‘‘
آج ضلعی صدر دفاتر پر دھرنے: سنگھو بارڈر پر دھرنے پر بیٹھے کسان لیڈر گرنام سنگھ چندونی نے کہا کہ ملک بھر کے کسان اپنے اپنے ڈی ایم آفس کے سامنے دھرنا دیں گے جبکہ کسان لیڈر اپنے اپنے مقام پر ہی بھوک ہڑتال کریں گے ۔ پہلے 19؍ دسمبر سے غیر معینہ مدت کیلئے بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیاگیاتھا مگر اتوار کو کی گئی پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ فی الحال اس پروگرام کو ملتوی کردیاگیاہے۔
جے پور دہلی ہائی وے گھنٹوں بند رہا: جے پور دہلی ہائی وے جام کرنے کی دھمکی کے پیش نظر اتوار کو بڑے پیمانے پر پولیس تعینات کی گئی تھی مگر کسانوں نے پر امن طریقہ سے اپنا احتجاج جاری رکھا ۔راجستھان کے کسانوں کا مارچ صبح شاہجہاں پور سے شروع ہوا جو دہلی سے تقریباً ۱۲۰؍ کلو میٹرکے فاصلے پر ہے ۔ یہ مارچ ٹریکٹر کے ذریعہ کیا گیا ۔ ایک ہزار سے زائد کسانوں کے اس مارچ کی قیادت سوراج انڈیا کے لیڈر یوگیندر یادو اورمعروف سماجی کارکن میدھا پاٹیکر کررہی تھیں۔ کسانوں نے ۳؍گھنٹے تک جے پور دہلی شاہراہ کو بند رکھا اس کے بعد ایک طرف کا راستہ کھولا گیا ہے جس سے لوگوں کو آنے جانے میں آسانی ہوئی ۔
وزیروں میں بوکھلاہٹ، ٹکڑے ٹکڑے گینگ یاد آئی: کسانوں کے اس احتجاج نے ایسا لگتا ہے کہ مرکزی وزیروں کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کردیاہے۔ ایک طرف جہاں اٹھاؤلے نے احتجاج میں شامل غیر متعلق افراد کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے تو وہیں دوسری جانب روی شنکر پرسادکو ٹکڑے ٹکڑے گینگ یاد آگئی۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘ نے کسانوں کے احتجاج کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو حکومت سختی سے نمٹے گی۔
امیت شاہ اور وزیر زراعت کی ملاقات: کسانوں کا یہ احتجاج جو پیر کو19؍ ویں دن میں داخل ہوجائےگا، کو ختم کرانے کیلئے حکمت عملی کی تیاری میں مصروف وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور ان کے ساتھی سوم پرکاش نے اتوار کو پھر وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی۔ وزارتی ذرائع نے میٹنگ کی تصدیق کی ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ اس میں کیا بات چیت ہوئی۔ واضح رہے کہ تومر اور سوم پرکاش کسانوں کے ساتھ بات چیت میں شامل تھے۔