ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایران سے خطرہ، امریکی جنگی بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ روان

ایران سے خطرہ، امریکی جنگی بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ روان

Tue, 07 May 2019 16:32:39    S.O. News Service

 واشنگٹن 7مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے متعدد دھمکیوں اور اشتعال انگیزیوں کے بعد، امریکہ نے اپنا ایک طیارہ بردار جنگی بحری بیڑا مشرق وسطی روانہ کر دیا ہے۔اتوار کو رات دیر گئے جاری ہونے والے ایک بیان میں، جان بولٹن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایران کو ایک صاف اور واضح پیغام بھیجنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاکہ اسے معلوم ہو کہ امریکی مفادات یا اس کے اتحادیوں پر کسی حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران سے جنگ نہیں چاہتا، لیکن پاسداران انقلاب یا ایرانی افواج کی جانب سے کسی حملے کی صورت میں، امریک اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔تاہم امریکی انتظامیہ نے، ایران کی جانب سے دھمکیوں کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔اپریل میں جب، یو ایس ایس ابراہام لنکن نامی جنگی بحری بیڑے کو خلیج فارس کی جانب روانہ کیا گیا تھا تو اس پر بمبار طیارے، جنگی ہیلی کاپٹر، ڈِسٹرائیرزاور 6000 سے زیادہ سیلر موجود تھے۔یورپ کے دورے پر جاتے ہوئے، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ہمراہ جانے والے صحافیوں کے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ ایسا کیا ہوا تھا جس کے ردعمل میں امریکہ کو اپنا جنگی بیڑہ روانہ کرنا پڑا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام کافی عرصے سے زیر غور تھا، اور انتظامیہ ایک صاف اور واضح پیغام بھیجنا چاہتی تھی کہ ایران کی کسی طالع آزمائی کا کس طرح جواب دیا جائے گا۔اس امریکی اقدام پر ایران نے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ایک ہفتہ قبل، ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے جان بولٹن اور ان کے ہمراہ چند دیگر افراد سمیت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو پر محاذ آرائی کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔جواد ظریف نے سی بی ایس نیوز کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں بات عسکری اقدامات تک نہیں پہنچے گی، کیونکہ لوگوں میں جنگی محاذ آرائی کے بارے میں معقولیت پائی جاتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں امریکی انتظامیہ محاذ آرائی کی صورت حال پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس کے لیے سخت چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ جو کوئی بھی اس کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اسے کامیابی حاصل نہ ہو۔اوباما دور میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان اور آج کل نیو امریکہ فاؤنڈیشن سے وابستہ، نیڈ پرائس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں کی نرمی کو ختم کرنا اور پھر پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے جیسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کو دیوار کے ساتھ لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔


Share: