ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بائیس کروڑ مسلمان بھی ہندوستانی شہری ہیں: سنجے راؤت

بائیس کروڑ مسلمان بھی ہندوستانی شہری ہیں: سنجے راؤت

Thu, 03 Dec 2020 21:30:28    S.O. News Service

ممبئی،3؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) شیوسینا  کے جنوبی ممبئی کے وبھاگ پرمکھ پانڈورنگ سکپال   کے ذریعہ اذان کی تعریف کرنےاور مسلم بچوں  میں  اذان کا مقابلہ منعقد کرانے کی ان کی تحریک پر بی جے پی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ’سامنا‘ نے بدھ کواپنے  اداریہ میں کہا ہےکہ یہ ایسا ہی ہے جیسے زرعی بلوں کے خلاف احتجاج کرنے  والے کسانوں کو ’’پاکستانی دہشت گرد‘‘ کہا جارہا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ احتجاج کرنے والے کسانوں میں بہت سے سابق فوجی ہیں   یا پھر ان کے بچے سرحدوں پر ملک کا دفاع کررہے ہیں۔اخبار نے بی  جےپی کے ٹرولس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ان لوگوں سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے جوکسانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں۔ ٹرولس کہتے ہیں کہ شیوسینا نے ہندوتوا ترک کردیا ہے جبکہ  عید کی شیرینی کھاتے ہوئے اُن (بی جےپی لیڈروں)کی تصویریں سامنے آتی ہیں۔‘‘ اخبار جس کے کارگزار ایڈیٹر شیوسینا کے ایم پی سنجے راؤت ہیں، نے مزید لکھا ہےکہ ’’ہم اس معاملے کوسیاسی رنگ نہیں دینا چاہتے کیوں کہ ملک کے 22؍ کروڑ مسلمان بھی ہندوستانی ہیں۔‘‘

مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ہے کہ حالانکہ گئو کشی  کے خلاف   قانون بن چکا ہے مگر  بی جےپی کی حکومت والے گوا اور شمال مشرقی ریاستوں  میں گائے کا ذبیحہ اور اس کے گوشت کی خریدوفروخت قانوناً جائز ہے۔ سامنا نے سوال کیا ہے کہ ’’اگر یہ منہ بھرائی کی سیاست نہیں ہے تو کیا ہے؟‘‘ پارٹی لیڈر سکپال کا دفاع کرتے ہوئے شیوسینا کے ترجمان اخبار نے  لکھا  ہے کہ  انہوں نے صرف ایک مسلم تنظیم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اذان کا آن لائن مقابلہ منعقد کرائےتاکہ لوگ باہر بھیڑ نہ کریں اور ڈجیٹل طریقے سے تقریب منائیں۔ واضح رہے کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد کے بعد سے بی جےپی شیوسینا کو ہندوتوا کے نام  نشانہ بنا رہی ہے۔   شیوسینا لیڈر کے ذریعہ اذان کی تعریف اوراس کا مقابلہ منعقد کرنے کی بات کہنے پر بی جےپی نے سوال کیا ہے کہ کیا یہ وہی پارٹی ہے جسے ہندو ہردئے سمراٹ بال ٹھاکرے نے قائم کیاتھا۔ا س سے قبل فرنویس اور  دیگر لیڈر بھی  شیوسینا پر ہندتوا کو ترک کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔


Share: