ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بابری مسجد ٹائٹل سوٹ 34 واں دن: مسجد میں مورتیوں کے نقوش پر مسلم فریقوں کے وکیل نے پیش کئے دلائل

بابری مسجد ٹائٹل سوٹ 34 واں دن: مسجد میں مورتیوں کے نقوش پر مسلم فریقوں کے وکیل نے پیش کئے دلائل

Tue, 01 Oct 2019 10:12:57    S.O. News Service

    نئی دہلی 30/ستمبر (راست/ایس او نیوز)    بابری مسجد مقدمہ کا عدالت میں  پیر کو  سنوائی کا34 واں دن تھا،چیف جسٹس رنجن گگوئی کی قیادت میں پانچ رکنی بنچ کے سامنے اپنی بحث کو جاری رکھتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئرایڈوکیٹ شیکھر نافڈے نے کہاکہ مہنت، مٹھ اور ہندو ؤں کا نمائندہ ہوتا ہے، اگر کوئی یہ کہے کہ میں کسی مٹھ کا مہنت ہوں تو وہ اس مٹھ کا قانونی نمائندہ ہو گا،اور خود بخود وہ پوجا کرنے والے ہندوؤں کا بھی نمائندہ بن جائے گا، جسٹس بوبڈے نے شیکھر نافڈے کی اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا، جس پر ایڈوکیٹ شیکھر نافڈے نے ان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قانون قانون ہے، مہنت مٹھ کا نمائندہ ہی ہوتا ہے،1885ء کے مقدمہ میں جو پارٹیاں نمائندگی کر رہی تھیں وہی اس مقدمہ میں بھی پارٹیاں ہیں، انہی پارٹیوں نے 1885 ء میں زمین پر ملکیت کا دعوی کیا تھااور اب بھی ان کا ملکیت کا دعوی ہے اور دعوی بھی اس طرح کا ہے کہ وہ زمین پر مندر تعمیر کرنے کا حق مانگ رہے ہیں، لہذا اس مقدمہ پرres judicata کاقانون لاگو ہوگا، (ریس جیوڈیکیٹا کا مطلب ایسا مقدمہ جو ایک بار فیصل ہو چکا ہو جسے دوبارہ نہیں لایا جا سکتا)، اس بات پر شیکھر نافڈے صاحب کی بحث مکمل ہو گئی۔

 اس کے بعد مسلم پرسنل لا بورڈ کے دوسرے وکیل ایڈوکیٹ نظام پاشا نے اپنی بحث کا آغاز کیا،انہوں نے کہا کہ نرموہی کا مطلب ہوتا ہے بغیر موہ کایعنی جسے کوئی لالچ نہ ہو، اس کیس میں کوئی مٹیریل نہیں ہے، لہذا نظام پاشا نے سوال کیا کہ نرموہی اکھاڑہ کی جو بھی نظریاتی حیثیت ہو وہ اس مقدمہ کو کیسے لڑ سکتا ہے؟ انہوں نے اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک دوسرے پوائنٹ پر کورٹ کی توجہ مبذول کرائی کہ بابر نے جس وقت مسجد تعمیر کروائی تھی اس وقت وہ حاکم تھا اور اقتدار اعلی اس کے پاس تھا، یہ وہ وقت تھا جب کوئی تحریری دستور موجود نہیں ہوا کرتاتھا، قانون وہی ہوتا تھا جو مقتدر اعلی طے کر دے، بادشاہ کے فیصلہ کو شرعی قانون سے موازنہ کرنا صحیح نہیں ہوگا، قرآن کا قانون بادشاہ کا قانون نہیں تھا،مسجد میں جو مورتیوں کے نقوش تھے اس کے تعلق سے قرآن کی بنیاد پر یہ تو  طئے  کیا جا سکتا ہے کہ وہ گنہگار تھا یا نہیں؟ لیکن اس سے اس کام کی قانونی و شرعی بنیاد پر کوئی حرف نہیں آتا، حقیت کا فیصلہ اس وقت کے قانون کے مطابق ہوگا،ایک بار ملکیت اور حقیت کا مسئلہ طے ہو جائے تب وقف جائداد کا انتظام و انصرام وقف قانون کے مطابق ہوگا۔

  کھانے کے وقفہ کے بعد ایڈوکیٹ نظام پاشانے اپنی بحث جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بابر نے جو کچھ کیا یعنی مسجد کی دیواروں پر مورتیوں کے نقش ونگار کی موجودگی اسے حرام کہنا غلط ہوگا، زیادہ سے زیادہ اسے مکروہ کے درجہ میں رکھا جا سکتا ہے، اس سے مسجد کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام میں مسجد کی ایک ثقافتی اور سماجی حیثیت بھی ہے،جہاں پر لوگ جمع ہوتے ہیں، اس کے بعد ایڈوکیٹ نظام پاشا نے مسجد کی دیوار پر کندہ تحریر کے ترجمہ کی غلطی واضح کی اور کہا کہ یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے، اس کا صحیح ترجمہ نوٹ کیا جاناچاہئے، اس کے بعد انہوں نے کہا کہ 1858 میں جو عرضی مسجد کے متولی نے فارسی زبان میں دی تھی اس کاترجمہ بھی غلط ہے،اس پر عدالت نے کہا کہ اس کا آپ آفیشیل ترجمہ داخل کریں۔

 اس کے بعد ہندو فریق کی طرف سے سینیر ایڈوکیٹ پاراسرن نے رام للاکی طرف سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قانونی شخصیت (JURISTIC PERSONALITY) کو ہندو قانون کی روشنی میں ہی دیکھا جائے گا، ہندو قانون کی مثالوں اور نظیروں کی روشنی میں قانون کی تعبیر کی جاتی ہے اور اسی بنیاد پر وہ پھیلتا اور نشو و نما پاتا ہے، ایڈوکیٹ پاراسرن نے بطور مثال انور علی سرکار کے کیس میں جسٹس وپن بوس کے فیصلہ کو پیش کیا، اس کے بعد ایڈوکیٹ پاراسرن نے ہندو مذہب کی فطرت پر گفتگو کی اور کہا کہ ہندو مذہب میں خدا کا تصور ایک اعلی ہستی کا تصور ہے، البتہ اس کی پوجا الگ الگ مندر میں الگ الگ پیرائے میں ہوتی ہے،ایڈوکیٹ پاراسرن سے جسٹس بوبڈے نے سوال کیا کہ کیا مند رکی زمین JURISTIC PERSONALITY  ہوگی؟ اور کس طرح ہوگی؟ اس کا جواب دیجئے، پاراسرن نے کہا کہ اس کا جواب میں کل دوں گا، اس پر آج بحث ختم ہو گئی۔

 آج کی بحث کے دوران مسلم فریقوں کی طرف سے ڈاکٹر راجیودھون کے علاوہ آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کی سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑہ اور   بورڈ کے سکریٹری سینئر ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی صاحب بھی موجود  تھے، اسی طرح بورڈ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے طور پر ایڈوکیٹ شکیل احمد سید، ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد، ایڈوکیٹ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ ارشاد احمد اور ایڈوکیٹ فضیل ایوبی بھی موجود رہے، ان کے علاوہ ان کے جونیئر وکلاء بھی موجود تھے۔


Share: