اُڈپی:7/ڈسمبر (ایس او نیوز) اس ملک میں رہنے والے تمام ذات اور دھرم کے باشندے مساوی ہیں۔ یہ بات ڈاکٹر امبیڈکر کے تشکیل کردہ دستور میں وضاحت کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ لیکن اسی دستور کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بابری مسجد کو شہید کیا گیا ۔ یہ سانحہ بھارت میں دستور اور قانونی نظام مردہ ہونے کی مثال پیش کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کرناٹکا کومو سوہاردا ویدیکے کے ضلعی صدر جی، راج شیکھر نے کیا۔
اُڈپی ضلع دلت دمنیتر سوابھیمانی ہوراٹا کمیٹی کے زیر اہتمام بابا صاحب امبیڈکر پری نروان اور بابری مسجد شہادت کی یاد میں آدی اُڈپی کے امبیڈکر بھون میں منعقدہ پروگرام میں وہ خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے قانون اور عدلیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ بابری مسجد کے سانحہ میں ملوث مجرموں کو آج تک کوئی سزا نہیں ملی ہے۔ دن دہاڑے مسجد کو شہید کئے جانے کے باوجود ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر تمام کو چھٹکار ا دیا گیا ۔ اس طرح ہمارے ملک کا ضمیر مردہ ہوگیا ہے۔ عدالت انصاف کے فیصلہ میں ہار گئی ہے۔ دستور بغیر اعضاء کا مردہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کلی طورپر دستور کو ہی برباد کئے جانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے پیچھے منظم سازش تھی ، انہوں نے اس میں اُڈپی کا بھی بہت بڑا کردار ہونے کی بات کہی۔ کمیٹی کے صدر سندر ماسٹر نے پروگرام کی صدار ت کی۔ سنچالک شیام راج بھرتی ، حسین کوڑی بینگرے ، ضلع اقلیتی ویدیکے کے صدر خلیل احمد موجودتھے۔ سکریٹری دینیکر بینگرے نے استقبال کیا تو دلت سنگھرش سمیتی کے ضلع سنچالک ایس ایس پرساد نے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔ شنکرداس نے نظامت کی۔