بنگلورو ، 9/ جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) بنگلورو میں فٹ پاتھ سے تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران سڑک کنارے کاروبار کرنے والے تاجروں کی بے دخلی کے خلاف بدھ کے روز سینکڑوں تاجروں نے فریڈم پارک میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے کارروائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
بنگلورو کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے احتجاج کے دوران اپنے کاروبار مکمل طور پر بند رکھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گریٹر بنگلورو اتھارٹی متبادل انتظام کیے بغیر سڑک کنارے دکانیں ہٹا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں غریب خاندانوں کا ذریعۂ معاش متاثر ہو رہا ہے۔
احتجاجی قائدین نے الزام عائد کیا کہ ترقی کے نام پر غریب محنت کش تاجروں کو بے دخل کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے روزگار کے تحفظ کے لیے کوئی متبادل انتظام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن تاجروں کو بے دخل کیا گیا ہے، انہیں فوری طور پر انہی مقامات پر دوبارہ کاروبار کی اجازت دی جائے۔
مظاہرین نے کہا کہ اگر کسی مقام پر عوامی آمد و رفت میں واقعی رکاوٹ پیش آ رہی ہو تو حکومت مساوی کاروباری امکانات رکھنے والی متبادل جگہ فراہم کرے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کارروائی کے دوران ضبط کیا گیا تاجروں کا سامان بلاشرط واپس کیا جائے۔
احتجاجی رہنماؤں نے ریاستی وزیر کرشنا بائرے گوڑا سے مطالبہ کیا کہ وہ خود متاثرہ مقامات کا دورہ کرکے تاجروں کے مسائل سنیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو احتجاجی تحریک کو پورے بنگلورو تک وسعت دی جائے گی۔
احتجاج میں شریک مختلف تاجر تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ سڑک کنارے کاروبار کرنے والوں کے تحفظ سے متعلق مرکزی قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، شہر بھر میں تاجروں کا جامع سروے مکمل ہونے تک بے دخلی کی کارروائیاں روکی جائیں، نئی شہری بلدیاتی اداروں میں ضابطے کے مطابق ٹاؤن وینڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں فٹ پاتھوں کو سائنسی بنیادوں پر کشادہ کیا جائے۔
یہ احتجاج سڑک کنارے تاجروں کی مشترکہ جدوجہد کمیٹی کی قیادت میں منعقد کیا گیا، جس میں کرناٹک کی مختلف تاجر اور مزدور تنظیموں کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت اور متاثرہ تاجروں کے روزگار کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔