ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بارش ، سردی میں اضافہ ، خیمےبھیگ گئے مگرحوصلے بلند، دہلی کی سرحدوں پر خیمہ زن کسانوں نے رات جاگ کر گزاری

بارش ، سردی میں اضافہ ، خیمےبھیگ گئے مگرحوصلے بلند، دہلی کی سرحدوں پر خیمہ زن کسانوں نے رات جاگ کر گزاری

Mon, 04 Jan 2021 11:51:24    S.O. News Service

 نئی دہلی،4؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی) زرعی قوانین کی منسوخی کیلئے دہلی کی سرحدوں پر خیمہ زن کسان مظاہرین کا احتجاج سنیچر  اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والی  بارش کے بعد اپنے سخت ترین دور میں  داخل ہوگیاہے۔ ایک طرف جہاں بارش کی وجہ سے ٹھنڈ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے وہیں  سڑک پر جا بجا پانی بھرجانے اور خیموں  کے بھیگ  جانے کی وجہ سے کسانوں کوشدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں جبکہ  بارش کی وجہ سے سردی  اپنے عروج کو پہنچ رہی ہے، اس سے نمٹنے کیلئے اکٹھا کی گئی لکڑی بھی   بھیگ گئی جس کی وجہ سے الاؤ جلانا بھی مشکل ہوگیاہے۔   اس   کے بعد بھی حکومت کی بے حسی پر حالانکہ کسان لیڈروں  نے  برہمی کااظہار کیا ہے مگر زور دے کر یہ بات واضح کی ہے کہ کیسی ہی پریشانی آئے وہ اپنے مطالبات  منظور ہوئے بغیر واپس نہیں  جائیں  گے۔ 

 مسلسل بارش ، واٹر پروف خیمے بھی کام نہیں آئے:  کسان لیڈر ابھیمنیو کوہر جو  اس احتجاج کی قیادت کرنےوالے سنیوکت کسان مورچہ  کے رکن  ہیں ، نے بتایا کہ’’ہمارے پاس  واٹر پروف خیمے ہیں مگر وہ کڑاکے کی ٹھنڈ اور پانی بھر جانے کے مسئلے سے ہماری حفاظت نہیں کرسکے۔‘‘ ان کے مطابق’’ بارش کی وجہ سے مظاہرہ گاہ میں حالات بہت ہی خراب ہوگئے  ہیں، کیونکہ جگہ جگہ پانی بھر گیاہے۔ بارش کے بعد سردی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے مگر حکومت کو ہماری پریشانیاں نظر نہیں آتیں۔‘‘

 ناقص شہری انتظامات پر برہمی مگر حوصلے بلند:  گرویندر سنگھ جو سنگھو بارڈر پر خیمہ زن ہیں،  نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کئی جگہوں  پر  پانی بھر گیا ہے، شہری انتظامات ٹھیک نہیں  ہیں  مگرا س کے ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ موسم کسانوں  کے حوصلوں کو شکست نہیں دے پائےگا جو ایک مہینے سے اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے احتجاج کررہے ہیں۔ 

موسم سے نمٹنے کی تیاریاں ناقص ثابت ہوئیں:  بھارتیہ کسان یونین (اُگرہن)  لیڈر سکھ دیو سنگھ  جن کی تنظیم ٹکری بارڈر پر کسانوں  کے احتجاج  کی قیادت کررہی ہے، نے بتایا کہ ’’سردی سے نمٹنے کیلئے کسانوں نے جو انتظامات کئے گئے تھے  وہ  بارش اور اس کے بعد پانی بھر جانے کی وجہ سے  کارگر ثابت نہیں ہورہے ہیں۔‘‘مظاہرہ میں  شامل  ویرپال سنگھ نے بتایا کہ ان کے کمبل اور آگ تاپنے  کیلئے اکٹھا کی گئی لکڑیاں بھیگ گئی ہیں۔

’’ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘: ویرپال  نے مزید بتایا کہ ’’ بارش کے بعد پانی بھر جانے سے ہمارے کپڑے بھیگ گئے ہیں۔اس کے علاوہ کھانا پکانے میں بھی دشواری ہے کیوں کہ چولہے کی لکڑیاں بھیگ گئی ہیں۔ خیر ہمارے پاس تو ایل پی جی سلنڈر ہے مگر سب کے پاس یہاں سلنڈرتو نہیں ہے نا۔‘‘ دھرم ویر یادو غازی پور سرحد پر احتجاج کر رہے ہیں۔انہیں بھی موسم کی قہر سامانیوں کا سامنا ہے مگر اخباری نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فولاد جیسے عزم کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ یادو  کے مطابق’’ہم کسی بھی پریشانی کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں، چاہئے بارش آئے یا طوفان، جب تک مطالبات  قبول نہیں کرلئے جاتے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔‘‘

 خیموں میں بھی پانی بھر گیا:  بُراڑی سرحد پر بنائے گئے خیموں میں پانی بھر جانے کی وجہ سے یہاں کے کسانوں کو مزید دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

 آج کسانوں اور حکومتی وفد کی ملاقات: اس بیچ پیر کو کسان لیڈروں اور حکومتی وفد کے درمیان ساتویں ملاقات ہوگی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کسانوں کے نصف مطالبات منظور کرچکی ہے جبکہ کسانوں کا کہناہے کہ انہیں  اب تک کوئی تحریری ضمانت نہیں ملی۔اس کے علاوہ کسانوں کا کلیدی مطالبہ جو تینوں زرعی قوانین کی منسوخی کا ہے ، اب تک منظور نہیں  کیا گیا۔ حکومتی ذرائع حالانکہ یہ دعویٰ کررہے ہیں  کہ   پیر کی اس میٹنگ کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور کسان اپنا مظاہرہ ختم کردیں گے مگر کسان بہت زیادہ پرامیدنہیں ہیں۔


Share: