بھٹکل 14/اگست (ایس اونیوز) امسال برسنے والی تیز بارش نے پورے ساحلی کنارے اور شمالی کرناٹکا کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے جس طرح تباہی مچائی ہے، ویسی طغیانی تو بھٹکل کی مشہور شرابی ندی میں دیکھنے کو نہیں ملی، مگر موڈ بھٹکل سے شروع ہونے والی اس ندی کے راستے میں چوتنی تک کنارے کنارے بسنے والوں کی زندگی پر ہر بار کی طرح امسال بھی سیلاب کاخطرہ منڈلارہا ہے۔
جب بھی برسات کا موسم آتا ہے تو شرابی ندی کے کنارے اور خاص کر موڈ بھٹکل اور چوتنی کے کنارے پر رہنے والوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں کہ کب نہ جانے آدھی رات کو ندی کا سیلاب ان کے گھر بار کو بہا لے جائے۔ماضی میں یہاں کے باشندوں کو کئی باربڑے ہی خوفناک حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ موڈبھٹکل سے شروع ہونے کے بعد یہ ندی چوتنی،شاذلی مسجد،غوثیہ مسجد مشما مسجد، خلیفہ مسجد، ڈارنٹا، ڈونگر پلّی ا ور بیلنی کے علاقے سے گزرنے بعدکے پاس سمندر میں مل جاتی ہے۔ اس سے پہلے موڈبھٹکل کے پاس، چوتنی، ڈارنٹا اور بیلنی کے علاقے میں اس ندی کے سیلاب نے بہت تباہی مچائی تھی۔
خوف و دہشت کا موسم: اس علاقے میں قدیم زمانے سے رہائش اختیار کیے ہوئے قلی مزدوری اور کھیتی باڑی کرنے والے لوگوں کے لئے ہر سال برسات کا زمانہ خوف و دہشت کا عالم لے کر آتا ہے۔ بارش جب تیز ہوجاتی ہے تو رات کے وقت گھروں میں چین کی نیندسونا تو دورکی بات دن میں بھی پکانے، کھانے اور بے فکر ہوکر بیٹھنے سے دل گھبراتا ہے۔ کبھی برسات کا پانی کمزور اور خستہ چھتوں سے ٹپکتا ہے تو کبھی ندی میں سیلاب سے کناروں سے اوپر گھروں کی دہلیزاورکبھی کبھار اندر کمروں تک پہنچنے والا پانی خوف زدہ کردیتا ہے۔ پھرجب بارش میں کمی ہوتی ہے تو گھرکے اندرسے کیچڑ نکالنے اور کمروں کو صاف کرنے کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ پانی گھروں کے اندر ہی نہیں بلکہ لوگوں کے کنوؤں اورکھیتوں کے اندر بھی گھس جاتا ہے۔
مقامی افراد محفوظ گھروں سے محروم: جب موسم کے تیور بگڑجاتے ہیں تو سیلاب کے خوف سے اپنے گھروں میں رہنے کے بجائے ذرا اونچائی پر موجود پاس پڑوس کے گھروں یا پھر اپنے رشتے داروں کے یہاں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ تیز برسات شروع ہونے پر تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے بھی یہاں بسنے والوں کو بطور احتیاط بلندی والے مقامات کی طرف نقل مکانی کرنے کی ہدایت جاری کی جاتی ہے۔
1972میں جب اس ندی میں زبردست سیلاب آیا تھا تو چوتنی اور موڈبھٹکل کے لوگ بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت سرکاری افسران اور سیاسی لیڈروں نے انہیں محفوظ اور پکے گھر بناکر دینے کا وعدہ کیاتھا۔ لیکن پانچ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اس علاقے لوگوں کے لئے محفوظ گھر ایک ایسا خواب بن کر رہ گیا ہے جس کی تعبیر آج تک نہیں ملی۔
بیرونی افراد نے بستیاں آباد کیں:حالانکہ بیرونی شہروں اور دیہاتوں سے بھٹکل میں آکر بسنے والوں نے شہر کے اطراف میں محکمہ ریوینیو، محکمہ جنگلات اور نہ جانے کن کن محکمہ جات کی زمین قبضہ کرکے مکانات اور بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرڈالیں۔ نہ جانے کتنی ایکڑ زمین بیرون شہر سے آکر بسنے والوں نے اپنی ملکیت بنالی ہے۔ مگرجیسا کہ چوتنی کے رہنے والے عبدالرزاق نامی ایک شخص کا کہنا ہے:”ہم اسی شہر میں پیدا ہونے کے باوجود چھوٹی موٹی ایک بہتر جگہ اوراچھے مکان کی تعمیر کا بس خواب ہی دیکھتے رہ گئے۔ہمیں چالیس پچاس سال قبل گھر تعمیر کرکے دینے کا وعدہ کرکے جانے والے افسران نے پھر کبھی پلٹ کر ہماری خبر نہیں لی ہے۔ جب بھی ندی میں سیلابی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو کھانے پینے کی فکر چھوڑکر بس چوکس اور جاگتے رہناہی ہماری قسمت بن گئی ہے۔“
یہ ایک مستقل خطرہ ہے:آج موسم کا رنگ جس طرح بدل رہا ہے۔ اور غیر متوقع طور پر زبردست بارش ہونے لگی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسم یونہی بھیانک روپ اختیار کرتے رہیں گے اور قدرتی آفات کا سلسلہ مزید تیز ہوجائے گا۔ ایسے میں موڈبھٹکل اور چوتنی کے پاس شرابی ندی کے کنارے بسنے والے لوگوں کے لئے حالات اور بھی خراب ہوسکتے ہیں۔ اس لئے عوامی منتخب نمائندوں اور متعلقہ سرکاری محکمہ جات کے افسران کو سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اور یہاں کے غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے ان باشندوں کو راحت پہنچانے کے اقدامات کرنے ہونگے۔