ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل؛ پٹرول کے ساتھ پانی مکس معاملہ. کنزیومر کورٹ نے دیا کار مالک کے حق میں فیصلہ. پٹرول بنک مالک پر لگایا تقریباً 16 لاکھ روپے جرمانہ

بھٹکل؛ پٹرول کے ساتھ پانی مکس معاملہ. کنزیومر کورٹ نے دیا کار مالک کے حق میں فیصلہ. پٹرول بنک مالک پر لگایا تقریباً 16 لاکھ روپے جرمانہ

Fri, 12 Feb 2021 19:30:58    S.O. News Service

بھٹکل 12 فروری (ایس او نیوز)  کار کی ٹنکی میں پٹرول  ڈالنے کےدوران پانی مکس ہونے کے معاملے میں  کاروار کنزیومر کورٹ نے  کار مالک کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے پٹرول پمپ مالک کو حکم دیا ہے کہ  پانی مکس کرکے پٹرول ڈالنے کے نتیجے میں کار خراب   ہونے پر کار کے بدلے میں 15,13,475 روپیہ ادا کیا جائے، اسی طرح  واقعے کو لے کر جس طرح  پریشانی اُٹھانی پڑی، اُس کے    ہرجانہ کے طور پر 50 ہزار روپیہ اور اخراجات کے طور پر مزید دس ہزار روپئے  ادا کیا جائے۔ کنزیومر عدالت نے  رقم کی بھرپائی کے لئے پٹرول پمپ مالک کو  تیس دن کی مہلت دی ہے ۔

یاد رہے کہ  7 مارچ 2018 کو رات قریب نو بجے   بھٹکل مین روڈ کے محمد انصار چنّا  اپنی والدہ، دو  مامو اور اپنے کزن برادر کے ساتھ میسور جانے کے لئے  عبدالرحیم  پٹرول پمپ   پہنچے اور 57 لیٹر پٹرول بھرکر پٹرول ٹینک کو فُل کیا اور ساگر روڈ ہوتے ہوئےسفر شروع کیا۔ کار قریب ڈیڑھ  کلو میٹر کا فاصلہ ہی طے کر پائی تھی کہ اچانک کار خراب ہوگئی، کار کا انجن بند ہوگیا اور کار ایک طرف سرک گئی۔ نئی کار کی اچانک یہ حالت دیکھ کر انصار پریشان ہوگئے، مسئلہ یہ بھی  تھا کہ  رات کا وقت تھا اور جنگلاتی علاقہ میں وہ بری طرح پھنس گئے تھے، اچھا ہوا کہ   قریب سے گذرنے والے کچھ لوگوں نے  مدد کی اور انہوں نے ایک میکانک کو لے کر کار مرمت کرنے کی کوشش کی ، اس دوران حیرت انگیز طور پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ کار کی ٹینکی میں پٹرول کے ساتھ کافی مقدار  میں پانی بھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے کار کا انجن خراب ہوگیا ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے   ان کو اپنا سفر ملتوی کرکے گھروالوں کو واپس بھٹکل لانا پڑا، جب  موصوف متعلقہ پٹرول پمپ پہنچے ،  تو وہاں  پٹرول پمپ مالک کے ساتھ  کافی دیر تک لفظی جھڑپ ہوئی پھر  پٹرول پمپ مالک کے خلاف انہوں نے پولس تھانہ میں کیس درج کرادیا۔ اس تعلق سے   پٹرول پمپ مالک محمدفیمان  کو پولس نے  کچھ دنوں کے لئے حراست میں بھی لیا تھا  اور عدالت میں اس تعلق سے معاملہ ابھی بھی   چل رہا ہے۔اس دوران  کار مالک محمد انصار نے کچھ دنوں بعد  ڈسٹرکٹ کنزیومر کورٹ کاروار  میں  بھی عرضی دائر کی، جس میں انہوں نے تمام حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی کار خراب ہونے کے بعد اب اسے اس کار میں دلچسپی نہیں ہے، لہٰذا اسے کار کی قیمت ادا کی جائے۔ کنزیومر کورٹ میں   کافی بحث اور جوابی بحث کے بعد اب جاکر عدالت نے اپنا   فیصلہ سنایا  ہے جس میں کنزیومر کورٹ نے  پٹرول پمپ مالک محمد فیمان  اور شراج النساء محمود کو حکم دیا ہے کہ پٹرول میں پانی مکس کرنے کی وجہ سے جو کار خراب ہوگئی تھی وہ کار محمد انصار سے لے کر  اُسے  15,13,475 روپیہ اور معاملے کو لے کر جس طرح دماغی پریشانی ہوئی اُس کے لئے پچاس ہزار روپئے اور اخراجات کے طور پر دس ہزار روپیہ الگ سے ادا کیا جائے۔ 

اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے  بھٹکل ماری کٹہ، مین روڈ پر   واقع  گولڈ سوق کے مالک  محمد انصار چنّا نے  بتایا کہ  ہمارے ساتھ اگرکچھ  غلط ہوتا ہے تو  ہمیں چاہئے کہ ہم اس کے لئے قانون کے مطابق فائٹ  کریں، اپنے حقوق  کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کریں، بھلے انصاف ملنے میں تاخیر ہوسکتی ہے لیکن انصاف ضرور ملتا ہے۔ انہوں نے کنزیومرکورٹ کی طرف سے اپنے حق میں فیصلہ آنے پر خوشی کا اظہار کیا۔


Share: