ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی بی ایم پی نے گندگی نکاسی سیس وصول کرنے کی تجویز ترک کردی، گھر گھر جا کر کچرا جمع کرنے کا سلسلہ ختم کردئیے جانے کے آثار نمایاں

بی بی ایم پی نے گندگی نکاسی سیس وصول کرنے کی تجویز ترک کردی، گھر گھر جا کر کچرا جمع کرنے کا سلسلہ ختم کردئیے جانے کے آثار نمایاں

Fri, 18 Dec 2020 21:26:46    S.O. News Service

بنگلورو،18؍دسمبر(ایس او نیوز) عوام کی شدید مخالفت کے آگے جھکتے ہوئے برہت بنگلورو مہانگر پالیکے نے اعلان کیا ہے کہ اس کی طرف سے گندگی یکجا کرنے کے عوض بجلی کے بل کے ذریعے سیس جمع کرنے کی تجویز پر عمل روک دیا گیا ہے۔

بی بی ایم پی کی طرف سے یہ منصوبہ بنایا گیا تھا کہ شہر بنگلورو کے ہر گھر اور دکان سے کچرے کی نکاسی کے عوض ماہانہ کم از کم 200روپے وصول کئے جائیں گے۔ اس تجویز پر عوامی حلقوں کے علاوہ اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے شدید نکتہ چینی کی جا رہی تھی اور کانگریس کی طرف سے شہر میں احتجاج بھی کیاگیا۔

بی بی ایم پی نے منصوبہ بنایا تھا کہ شادی محلوں، تجارتی کامپلیکسوں اوردکانداروں کے ساتھ ساتھ ہر گھر سے کم از کم 200روپے کا ماہانہ کچرا سیس یکجا کیا جائے۔یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی بی ایم پی کی طرف سے پہلے ہی تین الگ الگ قسم کے سیس وصول کئے جا رہے ہیں اب اس کے ساتھ چوتھے سیس کو بی بی ایم پی نے اپنے طور پر نہیں بلکہ بیسکام کے ذریعے اصول کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

بی بی ایم پی کے اڈمنسٹریٹر گورو گپتا نے جمعرات کے روز یہ واضح کردیا کہ بی بی ایم پی کی طرف سے ایسے کسی سیس کو لاگو نہیں کیا جا رہا ہے۔ مشن بنگلورو 2022 پروگرام میں شرکت کے دوران مسٹر گورو گپتا نے کہا کہ بی بی ایم پی کی طرف سے عوام پر کوئی نیا سیس یا ٹیکس لاگو کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔

بی بی ایم پی نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ شہر کے ہر گھر سے کچرا اکھٹا کرنے کے لئے مہم چلائی جائے اور اس کے عوض ہر گھر سے سیس وصول کیا جائے اس منصوبہ تحت طے کیا گیا تھا کہ شہر کی خائی سائٹوں پر گندگی کی نکاسی کا سلسلہ ختم کر کے اس رقم سے گندگی کو دور کسی مقام پر ٹھکانے لگایا جائے۔ لیکن اب بی بی ایم پی کی طرف سے گھر گھر جا کر گندگی جمع کرنے کے منصوبہ کو بھی ختم کردینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ گھر گھر جاکر گندگی یکجا کرنے والے کنٹراکٹروں کو رقم ادا کرنے کے لئے بی جے پی کے پاس فنڈس کی کمی کو بنیاد بنا کر ہی یہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا کہ ماہانہ بیسکام بلوں کے ذریعے سیس وصول کیا جائے گا۔ اب اس معاملہ کو ترک کردیا گیا ہے۔


Share: