الہ آباد،12؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)الٰہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ایک عرضی نے بی جے پی کیلئے مشکلات کھڑی کر دی ہے- پارٹی کے انتخابی نشان ’کمل‘ کے پھول پر انگلی اٹھائی گئی ہے اور سوال کیا گیا ہے کہ آخر قومی پھول کو بی جے پی بطور انتخابی نشان کس طرح استعمال کر رہی ہے- اس تعلق سے الہ آباد ہائی کورٹ نے انتخابی کمیشن کو نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کو قومی پھول کمل انتخابی نشان کی شکل میں کس طرح دیا گیا-قابل ذکر ہے کہ بی جے پی گزشتہ40سالوں سے کمل کے پھول کو بطور انتخابی نشان استعمال کر رہی ہے- سماجوادی پارٹی لیڈر کالی شنکر نے اس تعلق سے مفاد عامہ عرضی داخل کی اور سوال اٹھایا کہ کسی سیاسی پارٹی کو انتخابی نشان پارٹی کے ’لوگو‘ کی شکل میں استعمال کرنے کا حق نہیں ہے- انتخابی نشان انتخاب تک کیلئے ہی محدود ہے- اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ عرضی میں یہ ایشو نہیں اٹھایا گیا ہے کہ انتخابی نشان صرف انتخاب کیلئے الاٹ کیا جاتا ہے، دیگر کاموں کیلئے نہیں - تو پھر انتخابی نشان کا دیگر مقاصد سے استعمال کرنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے-عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی کہا کہ کئی خواندہ ممالک میں انتخابی نشان نہیں ہے، لیکن ہندوستان میں انتخابی نشان سے انتخاب لڑا جا رہا ہے- انتخابی کمیشن کے وکیل نے ان نکات پر غور کرنے کیلئے وقت طلب کیا، جس پر عدالت نے جواب داخل کرنے کیلئے وقت دیتے ہوئے آئندہ سماعت کی تاریخ12جنوری 2021مقرر کی-سماجوادی پارٹی لیڈر کالی شنکر کے ذریعہ داخل عرضی پر سماعت چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس پیوش اگروال کی بنچ نے کی-
عرضی پر وکیل جی سی تیواری اور کپل تیواری نے بحث کی- عرضی دہندہ کالی شنکر کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندہ ایکٹ 1951 اور انتخابی نشان (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) حکم 1968 کے تحت انتخابی کمیشن کو انتخاب لڑنے کیلئے قومی سیاسی پارٹی کو انتخابی نشان الاٹ کرنے کا حق ہے- انتخابی کمیشن کو ماڈل کوڈآف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر پارٹی کی منظوری واپس لینے کا اختیار بھی ہے- اس درمیان عدالت نے عرضی دہندہ کو دیگر کسی سیاسی پارٹی کو بھی فریق بنانے کی چھوٹ دی ہے-