تہران30؍اپریل ( ایس او نیوز؍ایجنسی) برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مئے کے جوہری ڈیل پر معاہدہ کے اعلان کے بعد فرانس کے صدر امانوئل میکرون نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے بات چیت کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری مذاکرات میں شامل ہوں۔
ذرائع کے مطابق ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ سات عالمی طاقتوں کے ساتھ قائم موجودہ جوہری معاہدے پر ‘سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔’اس سے قبل فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے اتفاق کیا تھا کہ موجودہ جوہری معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے ۔تاہم انھوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اٹھائے جانے والے بعض خدشات کا تدارک بھی ضروری ہے ۔صدر ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ وہ 2015 میں ہونے والے معاہدے میں شامل رہیں گے یا نہیں۔صدر ٹرمپ اس بین الاقوامی معاہدے کی سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ‘پاگل پن’ قرار تھا۔ایران اور فرانس کے رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی۔
صدرمیکرون نے کہا کہ مذاکرات کو تین اضافی ناگزیر موضوعات کو شامل کرنے کے لیے وسیع کیا جائے جس میں 2025 میں اس معاہدے کے خاتمے کے بعد کی صورت حال پر مباحثہ، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں ایران کی شمولیت اور اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت شامل ہے ۔صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے صدرمیکرون کے ساتھ ملاقات کے دوران ان مسائل کا ذکر کیا تھا۔ایرانی صدر کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق صدر روحانی نے صدر میکرون کو بتایا کہ ایران 2025 کے بعد بین الاقوامی قوانین کی ‘اپنے وعدے سے زیادہ پابندیوں کو قبول نہیں کرے گا۔
’انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے معاہدے میں شامل رہنے کی صورت میں بھی یہ ان کے لیے ‘قابل قبول نہیں ہوگا’ کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ سلوک نے ایران کی بین الاقوامی ساکھ خراب کی ہے ۔بہرحال صدر روحانی نے کہا کہ وہ فرانس کے ساتھ رشتے مضبوط کرنے کے لیے کام کریں گے اور ‘تمام شعبے ‘ میں تعاون کرنا چاہیں گے ۔امانوئل میکرون ، برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مئے اور جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکل نے ہفتہ وار چھٹیوں پر علیحدہ علیحدہ فون کالز میں ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کی پابندی پر رضامندی ظاہر کی ہے ۔ادھر نئے امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے اتوار کو سعودی عرب کے اپنے پہلے دورے پر ان کے مطابق علاقے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل ماکروں کو دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جولائی 2015ئ کو ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدے پر قطعا کوئی بات چیت نہیں کی جاسکتی ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی ایوان صدر کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کو یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ وہ جوہری سمجھوتے میں کسی رد وبدل کی امید نہ رکھیں۔فرانسیسی صدر کو ٹیلیفون کر کے حسن روحانی نے کہا کہ جوہری معاہدے کا مستقبل سنہ 2025 کے بعد تک ہے اور اس کی شرائط سے باہر کوئی بات چیت نہیں کی جاسکتی۔