ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / حق گو اور نڈر صحافی ونود دوا کا انتقال صحافتی دنیا کیلئے بڑا نقصان: ڈاکٹر محمد منظور عالم

حق گو اور نڈر صحافی ونود دوا کا انتقال صحافتی دنیا کیلئے بڑا نقصان: ڈاکٹر محمد منظور عالم

Sun, 05 Dec 2021 22:41:35    S.O. News Service

نئی د ہلی ، 5دسمبر ( آئی این ایس انڈیا ) 4 دسمبر 2021 کو ملک کے معروف صحافی جناب ونود دوا نے مختصر علالت کے بعد آخری سانس لی، وہ 67 سال کے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے پورا صحافتی حلقہ سوگوار ہوگیا اور ہر طرف ان کی موت کا غم منایا جانے لگا۔ اس حادثے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملّی کونسل کے جنرل سکریٹری اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا کہ ونود دوا کئی دہائیوں سے تعمیری صحافت کا علم بلند کیے ہوئے تھے، وہ ایک سچے صحافی تھے اور صحافی ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض کو بہت اچھی طرح سمجھتے تھے۔ پرکھ، خبردار انڈیا اور ونود دوا لائیو جیسے پروگراموں کے ذریعے وہ عوام کے دلوں پر راج کرتے رہے اور حقیقی صحافت کے مثال قائم کرتے رہے۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم نے مزید کہا کہ ونود دوا صاحب نے ایسے وقت میں دنیا کو چھوڑا ہے، جب ان کی ملک کو اور ملک کے عوام کو اشد ضرورت تھی، کیوں کہ گزشتہ چند برسوں میں جمہوریت کے چوتھے ستون میڈیا کو جس طرح پامال کیا گیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اس نازک صورت کی وجہ سے گودی میڈیا کی ایک اصطلاح وجود میں آگئی ہے۔ ان حالات میں جن دو چار بڑے صحافیوں کی وجہ سے صحافت کا بھرم باقی تھا، ان میں ونود دوا سرفہرست تھے۔ انھوں نے ایک نسل کی تربیت بھی کی، جن میں سے بعض لوگوں سے بجا طور پر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان کی کمی کو پورا کرتے رہیں گے۔ڈاکٹر منظور عالم نے کہا کہ میں ونود دوا کی شکل میں ملک کے ایک سچے، غیر جانب دار اور ذمہ دار صحافی کے انتقال پر اپنے غم کا اظہار کرتا ہوں، نئی نسل کو ان کی صحافتی زندگی اور صحافتی طریقہ کار سے روشنی حاصل کرنی چاہیے ۔


Share: