نئی دہلی،24اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سیلنگ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے دہلی کی 1797غیر قانونی کالونیوں میں تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کی ہدایات دی ہیں۔اسپیشل ٹاسک فورس کو حکم دیا ہے کہ دو ہفتے میں پبلک روڈ اور فٹ پاتھ سے قبضے ہٹائے جائیں۔ کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کالونیوں میں سات سات منزلیں عمارت کس طرح بنائی جا رہی ہیں۔اگر منظور شدہ کالونیوں میں بلڈنگ بائیلاج ہیں تو غیر قانونی کالونیوں میں کیوں نہیں ہیں۔غیر قانونی کالونیوں میں ایسی تعمیرات کو اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟وہیں مرکز نے کہا کہ 1797غیر منظور شدہ کالونیوں میں سے 1218کو منظوری دی گئی ہے۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کا راج ختم ہو گیا ہے۔عدالت نے حکومت کو کہا کہ حلف نامہ داخل کر کے کہہ دیجئے کہ ہم قانون پر عمل نہیں کر سکتے۔کورٹ نے سخت لہجے میں کہا کہ آپ غیر منظور شدہ کالونیوں کو منظور کر رہے ہیں تواس کا مطلب ہے کہ آپ غیر قانونی کام کو فروغ دے رہے ہیں، مثلا لوگ غیر قانونی تعمیر کرتے رہے اور آپ کوان کو منظور کر رہے ہیں۔اس دوران کورٹ میں ایمکس کیوری رنجیت کمار نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کر رہی ہے لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔حکومت غیر قانونی قبضے اور تعمیر کو روکنے کے لیے صحیح طریقے سے کوشش نہیں کر رہی ہے۔