ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی کے جامعہ نگر میں ہوئے تشدد کی جانچ شروع، 10 افراد گرفتار، گرفتارشدگان میں کوئی بھی طالب علم نہیں

دہلی کے جامعہ نگر میں ہوئے تشدد کی جانچ شروع، 10 افراد گرفتار، گرفتارشدگان میں کوئی بھی طالب علم نہیں

Wed, 18 Dec 2019 04:41:06    S.O. News Service

نئی دہلی 17/ڈسمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی کے جامعہ نگر تشدد معاملہ میں دو دنوں بعد 10 افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ گرفتارشدگان میں کوئی بھی طالب علم نہیں ہے۔

جامعہ تشدد واقعہ کی جانچ ایک خصوصی ٹیم کر رہی ہے جس نے پہلی کارروائی کے تحت  10 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ گرفتار کیے گئے سبھی افراد مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اس گرفتاری کے ساتھ ہی یہ بات   ظاہر ہوگیی  ہے کہ مظاہرے میں طالب علموں نے کوئی ہنگامہ نہیں کیا تھا اس کے ساتھ ہی  طلبا کے خلاف پولس کی کارروائی پر بھی شبہات کے بادل مزید گہرا گئے ہیں۔ گرفتار ملزمین سے پولس پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 40 سے 50 افراد نے جامعہ کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی اور خاموش احتجاجی مظاہرے کو پرتشدد بنا دیا۔

واضح رہے کہ اتوار یعنی 15 دسمبر کو جامعہ نگر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کیا گیا تھا۔ طلبا کے مظاہرے میں باہر کے کچھ لوگ شامل ہوئے تھے۔ اس مظاہرے میں اچانک کچھ مظاہرین اور پولس کے درمیان جھڑپ ہوئی اور پھر کچھ لوگوں نے چار ڈی ٹی سی بسوں کو نذر آتش کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد حالات سنگین ہو گئے اور پولس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں بلا اجازت داخل ہو کر معصوم اور بے قصور طالب علموں پر لاٹھی چارج شروع کر دیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولس کے گھسنے اور لاٹھی چارج و آنسو گیس کے گولے داغے جانے کی کئی تصویریں اور حیران کرنے والے ویڈیو بھی سامنے آئے تھے۔ پولس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے لائبریری میں گھس کر پڑھ رہے طلبا و طالبات کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا۔ جامعہ اسٹوڈنٹس نے بار بار یہ کہا کہ پرتشدد مظاہرہ میں یونیورسٹی سے کوئی بھی شامل نہیں تھا، لیکن پولس نے ان کی ایک نہیں سنی اور لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی بھی پٹائی کر دی۔

قابل ذکر ہے کہ طالبات پر ہوئے مظالم کے خلاف پیر کے روز الگ الگ یونیورسٹیوں کے طلبا سڑکوں پر اترے تھے اور پولس کی بریریت کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ وہیں اپوزیشن نے بھی پولس کارروائی کی سخت مذمت کی تھی۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی پیر کو طالبات کی حمایت میں انڈیا گیٹ پر علامتی دھرنا دیا اور جامعہ کیمپس میں گھس کر طلبا کی پٹائی پر سوال کھڑے کیے تھے۔


Share: