ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رافیل معاملہ: الیکشن سے پہلے سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو دیا جھٹکا، مرکز کے اعتراضات کو کیا مسترد

رافیل معاملہ: الیکشن سے پہلے سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو دیا جھٹکا، مرکز کے اعتراضات کو کیا مسترد

Wed, 10 Apr 2019 12:19:26    S.O. News Service

نئی دہلی، 10؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) متنازعہ رافیل معاہدہ سے متعلق مودی حکومت کو سپریم کورٹ سے آج اُس وقت بہت بڑا جھٹکا لگا جب عدالت نے ریویو پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا  کہ وہ اس معاملے کی سماعت میرٹ کی بنیاد پر کرے گا۔ سپریم کورٹ نے آج 10 اپریل کو کی گئی اپنی  سماعت کے دوران مرکزی حکومت کے ان ابتدائی اعتراضات کو خارج کر دیا جس میں حکومت نے عرضی کے ساتھ لگائے گئے دستاویزوں پر خصوصی اختیار بتایا تھا۔ سپریم کورٹ نے  ’خاص اور خفیہ‘ دستاویزات پر مرکز کے استحقاق کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دستاویزات عدالت میں قبول کئے جائیں گے اور   رافیل معاملہ میں وزارت دفاع سے فوٹو کاپی کیے گئے خفیہ دستاویزات کی جانچ کی جائے گی۔ مرکزی حکومت نے  کہا تھا کہ خفیہ دستاویزات کی فوٹو کاپی یا چوری کی کاپی پر عدالت بھروسہ نہیں کر سکتا۔ مگر جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ  نے مرکز کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی درخواستوں کی سماعت میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی اور اس کے لئے نئی تاریخ مقرر کی جائے گی۔

سابق مرکزی وزرا ارون شوری اور یشونت سنہا اور جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے رافیل جنگی طیارہ سودا معاملہ میں عدالت کے گزشتہ سال 14 دسمبر کو دیئے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے عرضیاں دائر کی تھیں، جن میں انہوں نے کئی ایسے دستاویزات لگائے تھے جو مرکزی حکومت کی نظر سے خاص قسم کے اور خفیہ ہیں۔ مرکز ی حکومت کی طرف سے  اٹارني جنرل کے کے وینو گوپال نے رافیل لڑاکا طیاروں سے متعلق دستاویزات پر استحقاق کا دعویٰ کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ ہندوستانی ثبوت ایکٹ کی دفعہ 123 کے تحت ان دستاویزات کو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ یہ دستاویزات سرکاری رازداری قانون کے تحت محفوظ دستاویزات کے زمرے میں شامل ہیں اور متعلقہ محکمہ کی اجازت کے بغیر انہیں پیش نہیں کیا جا سکتا۔  وینو گوپال نے کہا تھا کہ کوئی بھی قومی سلامتی سے منسلک دستاویزات شائع نہیں کر سکتا، کیونکہ ملک کی سیکورٹی سب سے اوپر ہے۔

دوسری طرف وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ رافیل کے جن دستاویزات پر اٹارني جنرل استحقاق کا دعوی کر رہے ہیں، وہ شائع ہو چکے ہیں اور عوامی دائرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ حق اطلاعات قانون کے التزامات کہتے ہیں کہ مفادات عامہ دیگر چیزوں سے سب سے اوپر ہے اور خفیہ ایجنسیوں سے متعلق دستاویزات پر کسی قسم کے استحقاق کا دعوی نہیں کیا جا سکتا۔ بھوشن نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ رافیل سودے میں دونوں حکومتوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے کیونکہ اس میں فرانس نے کوئی خود مختاری نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی پریس کونسل ایکٹ میں صحافیوں کے ذرائع کے تحفظ کے بھی التزامات ہیں۔

قابل غور ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ جو دستاویز عرضی کے ساتھ دیئے گئے ہیں، وہ غلط طریقے سے وزارت دفاع سے حاصل کیے گئے ہیں، ان دستاویزوں پر عدالت بھروسہ نہیں کر سکتا۔ لیکن عرضی دہندہ ارون شوری نے رافیل پر از سر نو غور کی عرضی داخل کرتے ہوئے معاملے میں سماعت کی بات کہی تھی۔ اب جب کہ عدالت نے سماعت کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے تو ارون شوری نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم دستاویزوں کی قبولیت سے متعلق مرکزی حکومت کی دلیلوں کو اتفاق رائے سے عدالت کے ذریعہ خارج کیے جانے کے حکم سے خوش ہیں۔‘‘

عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد کانگریس نے بھی اس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے اور اس نے رافیل معاہدہ پر سماعت کیے جانے کے حکم کو ’ہندوستان کی فتح‘ قرار دیا ہے۔ کانگریس نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل پر اس تعلق سے لکھا ہے کہ ’’یہ ہندوستان کی فتح ہے۔ رافیل سے متعلق از سر نو غور کی عرضی پر سپریم کورٹ کے ذریعہ سنائے گئے فیصلہ کا ہم استقبال کرتے ہیں۔ ستیہ میو جیتے۔‘‘ اس ٹوئٹ کے ساتھ کانگریس نے اے این آئی کا وہ ٹوئٹ شیئر کیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے ذریعہ رافیل معاملہ کی سماعت کی خبر دی گئی ہے۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی سپریم کورٹ کے ذریعہ مودی حکومت کو دیئے گئے جھٹکے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر اس تعلق سے لکھا ہے کہ ’’مودی جی ہر جگہ کہہ رہے تھے کہ سپریم کورٹ سے رافیل میں کلین چٹ ملی ہے۔ آج کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ مودی جی نے رافیل میں چوری کی ہے، ملک کی فوج سے دھوکہ کیا ہے اور اپنا جرم چھپانے کے لیے سپریم کورٹ کو گمراہ کیا ہے۔‘‘


Share: