حیدرآباد ،30؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) نائب صدر جمہوریہ ہند مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر کسی بھی قسم کا امتیاز دستورِ ہند کی توہین ہے۔ مذہب کی بنیادپر شہریوں پر حملوں کے واقعات ناقابل قبول اور قابل مذمت ہیں۔ خاطیوں کو قانون کے تحت جتنی جلد ممکن ہو زیادہ سے زیادہ سخت سزا دی جانی چاہئے۔ نائب صدر جمہوریہ آج سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کیمپس میں مفخم جاہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی حیدرآباد کے گریجویشن ڈے میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے کلیدی خطبہ دے رہے تھے۔ شہ نشین پر وزیر داخلہ محمدمحمود علی ، مسٹر پی جناردھن ریڈی پرنسپل سکریٹری محکمہ تعلیم حکومت تلنگانہ، ظفر جاوید سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی، ولی اللہ وائس چیرمین، پروفیسر ایس رام چندرم وائس چانسر عثمانیہ یونیورسٹی موجود تھے۔ مسٹر ایم وینکیانائیڈونے کہا کہ تہذیب اور ثقافت طریقہ زندگی ہے اور مذہب عبادت کا طریقہ ہے۔ چنانچہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہندوستان کی تعمیر ایسے متمدن تہذیب پر ہوئی ہے رواداری جس کی بنیاد ہے۔ ہندوستان میں مذہبی آزادی بنیادی حق ہے جس کی دستور کی دفعات 25 تا 28 میں ضمانت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور کے منشور میں ہمارے ملک کے سیکولر ہونے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ہر شہری کو کسی بھی امتیاز کے بغیر مساوات کی ضمانت دی گئی ہے جو دراصل پانچ ہزار سالہ قدیم ہندوستانی تہذیب کے اقدار کا خمیر ہے۔ مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہندوستان چار مذاہب ہندومت، بدھ مذہب، جین مت اور سکھ دھرم کا جنم استھان ہے تاہم اسلام‘ عیسائیت اور پارسیوں کی قابل لحاظ آبادی ہندوستان میں بستی ہے۔درحقیقت ہندوستانی مسلم دنیاکی مسلم آبادی کا ایک تہائی حصہ ہے۔ سات مذاہب کے ماننے والوں سے ہندوستان بھائی چارگی، مساوات، رواداری اور بقائے دوام کا سب سے بہترین نمونہ ہے۔ زندگی کے تمام شعبہ جات میں مذہبی مساوات ہیں۔ اقلیتی مذاہب کے ماننے والے اس ملک کے صدر، نائب صدر، وزیر اعظم، گورنرس، وزیراعلیٰ اوروزراکے عہدوں پر فائز ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کو ووٹ بینک کی حیثیت سے دیکھے جانے کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہاکہ اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ایک نئے اور تیزی سے ترقی کرنے والے ہندوستان کا وجود عمل میں آرہا ہے۔ وینکیا نائیڈو نے مفخم جاہ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے نئے گریجویٹ طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنے کیریئر کا ایک سنگ میل پار کئے ہیں۔ زندگی کا یہ لمحہ قابل فخر بھی ہے اور خود کے محاسبہ کا بھی ہے۔ اپنے کارہائے نمایاں کو ایک نصب العین میں تبدیل کرنے کا ہے۔ ایک نئی راہ پر اپنے مستقبل کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اپنے والدین، اساتذہ اور ایم جے کالج کی امیدوں، توقعات، اس کے اقدار کا بھرم رکھنے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے۔ جو عالمی قیادت کی متمنی ہے۔ انجینئرنگ گریجویٹس اپنے تنوع اور مستقبل کے اقدامات سے اس کے تمناؤں کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے انجینئرنگ گریجویٹس کو مشورہ دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹیکنالوجی سے انسانی معیار زندگی بہتر ہوں اور یہ فراہمی روزگار اور ترقی کا سبب بنیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور آٹومیشن، روبوٹکس، آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا ہے جو نئی ٹکنالوجی کی جگہ لینے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی جدید گلوبل انوویشن انڈیکس 81سے 57 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محض ہمارے نوجوانوں کی مثبت سوچ اور حکومت ہند کے ادارے انسٹی ٹیوٹ انوویشن کونسل، اسمارٹ انڈیا Hackathon اور اسٹارٹ اَپ انڈیا کی روایت شکن اسکیمات کی بدولت ممکن ہوسکا۔ نوجوانوں کو آرٹیفیشیل انٹلیجنس، مشین لرننگ، روبوٹکس، اور تھری ڈی پرنٹنگ ٹکنالوجی میں عبور حاصل کرنا چاہئے۔ ہندوستان بہتر مواقع کی سرزمین ہے۔ PSLV کے 39ویں مشن کے طور پر انڈین اسپیس، انڈین ریسرچ،ISRO نے نئی تاریخ مرتب کی جب 104سٹیلائٹ بیک وقت مدار میں داخل کئے گئے۔ ’’گگن یان‘‘ پروگرام کے تحت مرکزی کابینہ نے انسان بردار خلائی جہاز کے مشن کے لئے 9023 کروڑ روپئے منظور کئے ہیں۔ یہ اسرو، ماہرین تعلیم، انڈسٹری، سائنٹیفک اداروں اور نیشنل ایجنسیوں کے باہمی اشتراک سے ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں سے خواہش کی کہ وہ اس پروگرام میں اپنا اہم رول ادا کریں۔ ساتھ ساتھ عام آدمی کو درپیش مسائل کا حل بھی تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اہم ہے مگر اس کا مقصد ماحولیات کا تبدیلی، آلودگی، صنعت کاری، پانی کی قلت، زرعی مسائل سے نمٹنے کے لئے حل تلاش کرنا بھی ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ زرعت کا شعبہ نفع بخش اور پائیدار بن سکے۔ طلبہ کو مستقبل کے ٹکنالوجی سے روشناس کراتے ہوئے ہمیں انہیں بچت اور پائیداری کے اصولوں سے بھی واقف کرنے کی ضرورت ہے۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم مستقبل کے مشعل برداروں کی تیاری میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ یہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو حب الوطنی، دیانت داری، سماجی ذمہ داری، ڈسپلن، خواتین کا احترام اور کثیر مذہبی معاشرے کا اہتمام کرنے کے لئے اقدار اور روایات سے واقف کروائے۔ انہوں نے نصاب تعلیم میں اخلاقیات اور اقدار سے متعلق کورسس کی شمولیت پر زور دیا۔ ایک اچھا انسان اتنا ہی ا ہم ہو جتنا کہ ایک اچھا انجینئر۔ ا نہوں نے کہا کہ منفی سوچ کی جگہ مثبت اور تعمیر فکر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ معیاری تعلیم کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور ہمارے تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدبختی کی بات ہے کہ ہم معیار سے زیادہ مقدار پر توجہ دے رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں کو اس مسئلہ کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ واشنگٹن معاہدے کے تحت جس کے اکریڈیٹیشن کو دنیا بھر میں قبول کیا جاتا ہے۔ آئینی اداروں کو اْسی وقت پیدا ہوگا جب کوالٹی پر مبنی اشیاء پیش کی جائیں گی۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان برسوں سے دنیا کو سافٹ ویئر سرویس فراہم کرنے والا اہم ملک ہے۔ حیدرآباد اور بنگلور اس کے مرکز ہیں۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ٹکنالوجی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ یہ وقت ہے پراڈکٹس کے ڈیزائن انہیں پیٹنٹ بنانے اور فراہم کرنے کا۔ یہ اْسی وقت ممکن ہے جب سائنٹیفک جذبے اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی مہارتیں طلبہ میں پیدا ہوں۔ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ایم جے کالج کے طلبہ نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے ریسرچ سنٹرس قائم کی اور آر اینڈ ڈی پراجکٹس کے لئے علیحدہ پراجکٹس مختص کیا ہے۔ملک کی یونیورسٹیز اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ریسرچ اور معیاری مقالوں کی بین الاقوامی جرائد میں اشاعت کے لئے اہمیت دینی چاہئے۔ہر طالب علم کو انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس کی اہمیت سے واقف ہونا چاہیے۔مسٹر وینکیا نائیڈونے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ہندوستان نے انٹرنیشنل انٹلیکچول پراپرٹی انڈیکس میں 44سے 36ویں رینک کی طرف جست لگائی ہے۔ اور دنیا کے ٹاپ 10 میں شامل ہونے کے لئے وہ کوشاں ہے۔مسٹر نائیڈو نے اس موقع پر مرحوم صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے الفاظ کو دوہرایا جس میں انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے ملک میں جتنا ممکن ہوسکے روزگار پیدا کرے۔انہوں نے سندر پچائی، ستیہ ناڈیلا، چنت نانو نارائن کا حوالہ دیا جو گوگل، مائیکروسافٹ اور اڈوب کی قیادت کررہے ہیں۔ نائب صدر جمہوریہ نے امید ظاہر کی کہ وہ وقت آئے گا جب سب مل کر ہندوستان کو گلوبل لیڈر بنادیں گے۔جناب محمد محمود علی نے سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کی تعلیمی خدمات کی ستائش کی۔ انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی۔ طلبہ کے روشن مستقبل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔