بنگلورو،12؍اکتوبر(ایس او نیوز) خود ریاستی حکومت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ریاست کرناٹک میں کل 6,053گاؤں ایسے ہیں جہاں قبرستان کی زمینات موجود نہیں ہیں اور لوگوں کو اپنے مرحومین کی تدفین کے لئے دوسرے گاؤں یا دور کے مقامات تک لے جانا پڑتا ہے۔ ریاستی حکومت نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ مارچ 2016سے اکتوبر 2018کے درمیان کل 1,123گاؤں میں وہاں کے مکینوں کے لئے حکومت کی طرف سے قبرستانوں کی زمینات فراہم کی گئی ہیں،مارچ 2016تک کل 7.176گاؤں ایسے تھے جہاں قبرستان کی زمین کی ضرورت تھی، جن اضلاع کے گاؤں، قبرستان کی زمینات سے محروم ہیں ان میں سر فہرست ٹمکور ضلع ہے جہاں کے902گاؤں کے مکین قبرستان سے محروم ہیں، اس کے بعد 718گاؤں کے ساتھ ہاسن، 470گاؤں والا منڈیا ضلع اور 361گاؤں کے ساتھ بلگاوی ضلع کا مقام ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بنگلور شہری ضلع میں کل 158گاؤں اور بنگلور دیہی ضلع میں 71گاؤں ایسے ہیں جہاں کے مکین قبرستان کی زمین سے محروم ہیں۔ریاستی حکومت نے اپنے بجٹ 2018-19میں اس مقصد کے لئے 10کروڑ روپئے مختص کرنے کے علاوہ ریاست کے تمام 30اضلاع میں قبرستانوں کی زمینات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں تمام اقدامات کی یقین دہانی کرائی تھی۔ذرائع کے مطابق ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے کہا گیا ہے کہ وہ مختلف گاؤں کی آبادی کے تناسب کی بنیاد پر وہاں کی ضرورت کو واضح کرے اور اسی کے مطابق اقدام بھی کیا جائے اور حسب ضرورت رقبہ والی زمینات کی نشاندہی کرنے کے ذریعہ انہیں قبرستانوں کے لئے مختص کیا جائے۔جن مقامات پر سرکاری زمینات موجود نہیں ہیں وہاں اس طرح کی زمینات انفراد ی مالکان سے خریدی جائیں گی اور اس کے لئے زمینات کی بازاری قیمت کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ رقم جائیداد مالکان کو فراہم کی جائے گی۔