ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریپ کیس میں آسا رام کے خلاف دلیلیں پوری، کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا

ریپ کیس میں آسا رام کے خلاف دلیلیں پوری، کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا

Sun, 08 Apr 2018 12:05:30    S.O. News Service

جودھپور7اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جودھپور کی ایک خصوصی پسماندہ و غیر پسماندہ عدلیہ نے آسا رام کے خلاف 2012 کے ریپ کے ایک معاملہ میں آخری دلیلیں پوری ہونے کے بعد آج فیصلہ 25 اپریل کے لئے محفوظ رکھ لیا۔ متاثرہ کے وکیل پی سی سولنکی نے کہا کہ جج مدھو سودن شرما نے پانچ ماہ تک استغاثہ اور مدعا علیہ کے وکلاء کی دلیلیں سماعت کی،آخری دلیل آج پوری ہو گئی ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے 25 اپریل کے لئے اپنا حکم محفوظ رکھ لیا ہے ۔ایک نابالغہ نے معروف ہندو مذہبی پیشوا آسارام پر جودھپور کے پاس کے منئی گاؤں میں واقع اپنے آشرم میں جنسی تشدد کا الزام لگایا تھا۔ لڑکی اترپردیش کے شاہ جہاں پور کی رہنے والی ہیں، نابالغہ ایک اسکول طالبہ بھی تھی جو کہ آشرم میں مقیم تھی ۔وکیل نے کہا کہ آسا رام 31 اگست 2013 سے پوکسو قانون کی متعلقہ دفعات اور ایس سی ایس ٹی ( انسداد ظلم قانون) کے تحت جیل میں ہیں۔ وکیل نے کہا کہ مجرم ٹھہرائے جانے پر آسارام کو زیادہ سے زیادہ 10 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ وہ گجرات میں بھی ریپ کے ایک معاملے کا سامنا کر رہا ہے۔


Share: