بنگلورو،یکم جولائی (ایس او نیوز) مرکزی وزیر برائے کیمیا وکھاد ڈی وی سدانندا گوڈا نے بتایا کہ ملک بھر میں امسال 300جنرک ادویات مراکز قائم کرنے کے ساتھ بنگلور میں بھی سال کے آخر تک 100 مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے- وکلاء تنظیم کی جانب سے شہر کے سیول کورٹ احاطہ میں تعمیر شدہ پردھان منتری جن اوشدھی مرکز کا افتتاح کرتے ہوئے سدانندا گوڈا نے اس خیال کا اظہار کیا اور کہا کہ غریب مریضوں کو کم دام میں دوائی فراہم کرنے کے مقصد کے تحت ان مراکز کو قائم کیا جارہا ہے- انہوں نے کہا کہ چند ڈاکٹروں اور میڈیکل ریپرازین ٹیٹیوز(مندوبین) غریب مریضوں کے لئے ایک مخصوص کمپنی کی دوائی خرید نے کی سفارش کرتے ہیں - انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان ایک طرح کا تال میل رہنے کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہورہا ہے- اس لئے وزارت سے ڈاکٹروں کو مکتوب روانہ کر کے جن اوشدھی مراکز سے ہی ادویات خرید نے مریضوں کو ہدایت دینے کی گزارش کی جائے گی-انہوں نے بتایا کہ ملک میں 1.25 کروڑ خاندان اپنی آمدنی کا 15 تا30 فیصد حصہ دوا کیلئے خرچ کرتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر خاندان غریبی کی نچلی سطح میں آرہے ہیں - سدانندا نے بتایا کہ ادویات کی تیاری کا خرچ کم ہونے کے باوجود مارکیٹ میں ڈسٹری بیوٹرس قیمتوں میں اضافہ کررہے ہیں جس پر قابو پانے حکومت کوشش کررہی ہے- انہوں نے کہاکہ کم داموں میں حاصل جنرک ادویات مراکز پر یقین کرنے عوام میں بیداری لانا ضروری ہے- انہوں نے بتایا کہ جنرک ادویات مراکز میں فی الوقت 852 ادویات کم دام میں فروخت کئے جارہے ہیں - سابق مرکزی وزیر اننت کمار کے انتقال کے بعد کینسر سے جڑے 51 ادویات کو ان مراکز میں شامل کیا گیا ہے- اس موقع پر انہوں نے وکلاء تنظیم کے لئے رکن پارلیمان فنڈ سے 25 لاکھ روپئے ادا کرنے کا تیقن دیا اور عدالت میں خالی عہدوں کی بھرتی کے لئے متعلقہ وزیر قانون کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کی صلاح دی- ہائی کورٹ کے سینئر اڈوکیٹ ایل نارائن سوامی نے کہا کہ غریبوں کو کم دام میں ادویات کی فراہمی ان کی زندگی کا حق ہے اور چھوٹے مرض سے بھی جان گنوانے کے واقعات پر قابو پانے میں جنرک ادویات مراکز اہم رول ادا کرسکتے ہیں - اس موقع پر ہائی کورٹ کے اڈیشنل سالسٹر جنرل پربھولنگا ناوڈگی، وکلاء تنظیم کے صدررنگناتھ ودیگر حاضر رہے-