سری نگر، 25؍ جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے جالی بندوق لائسنس کے سلسلے میں ہفتہ کے روز جموں و کشمیر اور قومی راجدھانی دہلی میں کم از کم 40مقامات پر چھاپے مارے۔ تفتیشی ایجنسی نے 2 سینئر آئی اے ایس افسروں کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہے۔ اس میں شاہد اقبال چودھری اور نیرج کمار شامل ہیں۔ دونوں پر 2 لاکھ جعلی گن لائسنس کے معاملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بندوق کے لائسنس کے معاملے میں جموں وکشمیر ملک میں سرفہرست ہے۔ سب سے زیادہ تعداد میں اسلحہ لائسنس 2018 سے لے کر 2020 تک جاری کئے گئے تھے۔ ان دو سالوں میں ملک بھر میں 22,805 لائسنس جاری کیے گئے، جن میں سے18000 صرف جموں و کشمیر میں ہی جاری کیے گئے تھے۔ یعنی ملک کے 81فیصد لائسنس یہاں تقسیم کیے گئے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ ہندوستان کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا بندوق کا ریکیٹ ہے۔
واضح رہے کہ کہ اینٹی ٹیرر سکارڈ (اے ٹی ایس) راجستھان پہلے اس کیس کی تحقیقات کر رہا تھا تاہم بڑے پیمانے پرغیر مقامی لوگوں کو جعلی بندوق لائسنس کی فراہمی کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد اس کیس کو سی بی آئی کے سپرد کیا گیا تھا۔اے ٹی ایس نے انکشاف کیا تھا کہ جموں و کشمیر کے ضلع اودھم پور، ڈوڈہ، رام بن اور کپوارہ میں جعلی دستاویزات پر چالیس ہزار بندوق لائسنس فراہم کی گئی ہیں۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک آئی اے ایس افسر جو اُس وقت ایک ضلع کا مجسٹریٹ تھا، نے بڑی تعداد میں غیر مقامی لوگوں کو جعلی بندوق لائسنس فراہم کی ہیں۔