سرسی :29؍مئی (ایس اؤ نیوز)پرسوں میسور کے کوئمپونگر میں دھوکہ دہی کے الزام میں سرسی کی ریکھا ہیگڈے عرف میئتری کے خلاف کیس درج ہواتھا ۔ یہی ریکھا ہیگڈے ایک فریبی جال کی ویلن بتائی جارہی ہے۔
سرسی تعلقہ کے اگسال بومن ہلی کی بتائی جانےوالی ریکھا ہیگڈے نے صرف پی یو اول تک تعلیم حاصل کی ہے۔ تعلیم میں ناکام ہوئی تو ریکھا نے بنگلورو کا رخ کیا۔ وہاں آپسی شناسائی کے بعد شیوراج کے ساتھ این جی اؤ کا فیصلہ کرنے کے بعدارتھ سوشیل آرگنائزیشن کے نام سے ایک این جی اؤ کی بنیاد ڈالی۔ اس کے ذریعے پیسہ کمانا آسان سمجھتےہوئےریکھا ہیگڈے ، ایک دوسال شیوراج کے ساتھ اچھا کام کیا۔ اس کے بعد شیوراج کو این جی اؤ سے باہر کا راستہ دکھا کر آزادانہ طورپر کام کرنا شروع کیا۔ یہیں سے اگسالی بومن ہلی کی ریکھا ہیگڈے کا کاروبار شروع ہوتاہے۔
سرسی ، منجوگنی کے موظف بینک ملازم اور تڈگونی کے موسط نوجوان سمیت بہت ساروں کو مٹی چٹانےکے بعد اب بنگلورو سے میسور شفٹ ہوئی ریکھا ہیگڈے ،یہاں اپنی چال بازیوں سے میسورکے عوام کو دھوکہ دینےکی کوشش کی ہے۔میسور کے نویل نگر، کوئمپونگر میں برہمن سماج سے تعلق رکھنےو الی منجولا سدھیر کے گھرمیں کرایے میں مکین تھی۔ گھر مالکن کے پاس ریکھا ہیگڈے نے جھوٹ بولتے ہوئے خود انفوسس کی ملازمہ بتائی اور شمالی کینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کی بھانجی کا ناٹک کھیلا۔ گھر مالکن منجولا ، اننت کمار ہیگڈےکی بھگت ہونےکی وجہ سے ریکھا ہیگڈے کو اپنا مکان کرایہ پر دیا تھا۔
ریکھا ہیگڈے گھر مالکن کو بہلاتےہوئے اپنے ماموں اننت کمار ہیگڈے میسور کا دورہ کرنےکے بعد انہیں تعارف کرانے کا تیقن دیاتھاجس سے منجولا اور بھی خوش ہوگئی تھی۔ اسی اعتماد کو بنیاد بناتےہوئے ریکھانے منجولا کے سامنے کہا کہ مجھے میسور میں ہی ایک گھر خریدنا ہے، لیکن گھروالے مان نہیں رہےہیں، میں فی الحال اڈوانس ادا کی ہوں، 7لاکھ روپیوں کی ضرورت ہے، اگر تم میری مدد کرو تو بہتر ہوگا۔ منجولا نے اننت کمار ہیگڈے کی بھانجی سمجھتے ہوئے 7لاکھ روپئے دے دی۔ چالاک ریکھا 11فروری کو گھر مالکن منجولاکو بتائے بغیر وہاں سے لاپتہ ہوگئی ۔ منجولا سمجھی کہ دو چار دن کہیں گئی ہوگی ، ہفتہ کے بعد بھی وہ نہیں لوٹی تو منجولا کو شبہ ہونے کے بعد وہ اپنے رشتہ داروں سے اس معاملےمیں بات کی ہے۔
چار سال پہلے جب بی جے پی کی مرکزی حکومت نے نوٹ بندی کے ساتھ غیر رجسٹرڈ این جی اؤ ز پر پابندی لگائی تھی ۔ اس کے بعد ریکھا کے برے دن شروع ہوگئے۔ اسی وقت ریکھا اپنے گاؤں میں کروڑروپیوں کی لاگت سے گھر کی تعمیر شروع کی تھی ۔ اس کے خوابوں کے محل کی تعمیر سرمایہ کی کمی کی وجہ سے رک گئی ۔ بعد کے تین برسوں تک ریکھا نے اپنے گاؤں نہیں آئی ۔ رقم کے لئے نئے نئےبکروں کو پکڑ کر جال بچھاتی رہی ، اس کے والدین بھی اس کے یومیہ خرچ سے تنگ آگئے تھے۔ حالات ابتر ہونے لگے تو ریکھا نے بنگلورو سے میسور شفٹ ہوگئی۔ میسور میں بچھائے گئے اپنے پہلےجال میں ہی ریکھا پھنس گئی ۔اس کے علاوہ ریکھا کے جال میں سرسی اور بنگلورو میں کتنے لوگ پھنسے ہیں پولس جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گا۔