نئی دہلی،20/جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سون بھدر قتل عام کے متاثرین کے 2 رشتہ داروں سے مرزا پور کے چنار گیسٹ ہاؤس میں ملنے کے بعد پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ ان کا مقصد پورا ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تک حراست میں ہیں۔ابھی انتظامیہ کیا کہتا ہے اس کو دیکھتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کی جانب سے متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے کی مدد کی جائے گی جن کے گھر کے لوگ اس قتل عام میں مارے گئے تھے۔وہیں مرزاپور کے ڈی ایم کی جانب سے بیان آیا ہے کہ پرینکا گاندھی مکمل طور پر آزاد ہیں، ان کوحراست یا گرفتار نہیں کیا جائے گا یا کسی طرح کا مچلکا بھرنا نہیں پڑے گا۔دوسری طرف اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی دنیش شرما نے کہا ہے کہ دفعہ 144 لگنے کے بعد اگر کوئی سیاسی مقصد کو پورا کرنے جاتا ہے تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔کسی کو بھی سویدشیل مسائل پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔دوسری طرف سون بھدر جا رہے چار ٹی ایم سی ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ کانگریس کے دپندر ہڈا، مکل واسنک، راج ببر، جتن پرساد، راجیو شکلا کو وارانسی ایئر پورٹ میں حراست میں لیا گیا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ سون بھدر میں زمین پر قبضہ کرنے کے گئے ایک فریق نے دوسرے فریق پر حملہ کر دیا جس میں 10 لوگوں کی موت ہو گئی۔اس کے بعد سے یوگی حکومت اپوزیشن کے نشانے پر آ گئی تھی۔اس سے پہلے پرینکا گاندھی واڈرا کو انتظامیہ کی طرف سے روکے جانے کے پس منظر میں کانگریس نے سنیچر کو ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں ’جنگل راج‘ ہونے اور قبائلیوں کے انتظامیہ کے تحت قتل کئے جانے کا الزام عائد کیا اور سوال کیا کہ آخر حکومت پرینکا سے ڈری ہوئی کیوں ہے۔ پارٹی کے مرکزی ترجمان رندیپ سرجیوالا نے بتایاکہ سون بھدر کا قتل عام ملک کے غریبوں اور کسانوں کے خلاف ہے۔یہ قتل عام انتظامیہ کے ذریعہ کرایا گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ آدتیہ ناتھ حکومت کی سازش نہیں تو کیا ہے؟ سچائی یہ ہے کہ آدتیہ ناتھ حکومت مجرموں کو تحفظ دے رہی ہے۔وہ سون بھدر میں مجرموں کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم قتل عام کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔