نئی دہلی،17/ جون (آئی این ایس انڈیا) کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران قرضوں پر ای ایم آئی پر سود میں رعایت دینے کی درخواست پر بدھ کو ایک بار پھر سماعت ہوئی۔سماعت میں سولیسٹر جنرل تشار ر مہتا نے کہاکہ ای ایم آئی سود پر چھوٹ ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے مالی استحکام کونقصان ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ بہرحال جمع کرنے والوں کو اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ سماعت میں بینکوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی معاملے پر سیکٹر سے سیکٹر پر ادائیگیوں کے فرق پر غور کرنا پڑے گا۔جب تک ہم اس معاملے سے باہر نہیں آجاتے یہ عرضی اہم اورپختہ ہے۔اگر زرعی شعبے کو مدد کی ضرورت ہو تو کیا ہوگا؟ ایس جی تشار مہتا نے کہاکہ مہلت کی مدت کے دوران سود میں رعایت کے لئے درخواست بینک کے مالی استحکام کو خطرے میں ڈالے گی اور جمع کرنے والوں کے مفادات کو خطرے میں ڈالے گی۔ اس معاملے کی سماعت کرنے والی بینچ میں تین جج شامل ہیں۔جسٹس ایم آر شاہ نے کہاکہ ایک بار جب ہم آخری تاریخ طے کر لیتے ہیں تو اس کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کام ہونا چاہئے۔ہم سود پر کوئی فیس نہیں لینا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ اس معاملے کو لے کر مرکز کو بھی پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی حکومت اب خود کو بے بس قرار نہیں دے سکتی۔ جسٹس شاہ نے کہاکہ حکومت سب کچھ بینکوں پر نہیں چھوڑ سکتی، مداخلت پر غورکرنا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ مرکز مزید یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بینکوں اور صارفین کے مابین ہے۔ اگر آپ نے مہلت کا اعلان کیا ہے، تو آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ فوائد صارفین کو بامقصد طریقے سے دیئے جائیں گے۔صارفین مہلت کا فائدہ نہیں اٹھارہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ مرکز نے راستہ تلاش کرنے میں وقت لیا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ مرکز اب اسے بینکوں پر نہیں چھوڑ سکتا۔