ممبئی، 11؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) مساجد میں لگے ہوئے لاؤڈ اسپیکر س کے خلاف راج ٹھاکرے کی شرانگیزی کے بعد ایم این ایس کارکن سرگرم ہوگئے ہیں۔ اتوار کوانہوں نے شیوسینا بھون کے باہر لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسا بجانے کی کو کوشش کی جس پر کارروائی کرتے ہوئے شیواجی پارک پولیس نے 4 افراد کو حراست میں لے لیا تاہم چند گھنٹے بعد انہیں متنبہ کرکے کوئی کیس بنائے بغیر گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ اس پر نیا پینترا کھیلتے ہوئے ایم این ایس نے سوال کیا ہے کہ کیا شیوسینا بھون کوئی مسجد ہے جو اس باہر لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسا پڑھنے پر کارروائی کی جارہی ہے۔ مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کے خلاف راج ٹھاکرے کے بیان کے بعد ایم این ایس کارکنوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ انکی جانب سے شر انگیزی کا سلسلہ تیز ہوتا جارہاہے۔ یہ تاثر دینے کیلئے کہ شیوسینا مسلمانوں کی حمایت کرتی ہے،ایم این ایس کارکنوں نے اتوار کو دادر میں واقع شیو سینا بھون کے باہر لاؤڈ اسپیکر لگاکر ہنو مان چالیسا بجانے کی کوشش کی ۔ پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے نہ صرف لاؤڈ اسپیکر ضبط کیا بلکہ ایم این ایس کارکن یشونت قلعہ دار سمیت کل ۴؍ رضا کاروں کو حراست میں بھی لیا۔ اس پر ایم این ایس کے کئی رضا کاروں نے پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور سب نے بلند آواز میں پولیس اسٹیشن سے متصل مندر کے باہر ہنو مان چالیسا پڑھنا شروع کر دیا ۔
پولیس نے نظم و نسق کے مسئلہ کے سبب حراست میں لئے گئے چاروں افرا کےخلاف کوئی کیس درج کئے بغیر ہی انہیں متنبہ کرکے گھر جانے کی اجازت دے دی ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل این ایم این رضا کاروں نے شیو سینا بھون کے قریب ایک پوسٹر لگا کر احتجاج کیا تھا اور ادھو ٹھاکرے پر بال ٹھاکرے کے اصولوں کے خلاف سیاست کرنے اور ہندو توا کو بھول جانے کا الزام لگایا تھا ۔ اتوار کو پولیس کارروائی پر ایم این ایس کے ترجمان سندیپ دیشپانڈے نے کئی سوال اٹھائے۔ انہوںنے کہا کہ شیو سینا بھون مسجد نہیں ہے بلکہ ہندوؤں کا مقدس مقام ہے اور اگر اس کے سامنے ہنومان چالیسا بجایا جاتاہے تو اس کے خلاف کارروائی کیوں کی جارہی ہے؟ سندیپ دیشپانڈے نے کہاکہ ہنومان چالیسا بجا کر شیو سینا کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو ہندوتوا کو بھول چکی ہے۔ ہندوؤں کے دلوں کے شہنشاہ بالا صاحب ٹھاکرے کے بیٹے وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود اس طرح کی کارروائی بدقسمتی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کیا رام نومی کے موقع پر ہنومان چالیسا بجانا جرم ہے؟‘‘ واضح رہے کہ پولیس نے وہ ٹیکسی ضبط کرلی ہے جس پر لاؤڈ اسپیکر لگایا گیاتھا۔