کاروار،یکممارچ (ایس او نیوز)ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ شیوپرکاش دیوراجونے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ضلع میں اب تک سائبر کرائم کے 68معاملات درج کیے گئے ہیں، جن میں 4معاملات حل کرکے 2.07لاکھ روپے ضبط کیے گئے ہیں۔
انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سال2018میں 17معاملے درج ہوئے تھے۔ اس میں سے دو معاملے حل ہوئے جس میں ایک ملزم کو گرفتار کرکے اس کے پاس سے 1,37,000/-روپے ضبط کیے گئے۔اسی طرح سال 2019میں جملہ 44معاملے درج ہوئے اور ان میں سے تین معاملات حل کرلیے گئے۔دوملزمین کو گرفتار کیاگیااور70ہزار روپے ضبط کیے گئے۔ سال 2020میں اب تک 7سائبر کرائم کے معاملات درج ہوئے ہیں، جن کی تحقیقات کی جارہی ہے۔
ضلع ایس پی نے بتایا کہ سائبر کرام، خواتین اور بچوں سے متعلقہ جرائم، منشیات کی خرید وفروخت اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر روک تھام لگانے کے لئے اسکولوں اور کالجوں میں بیداری مہم چلائی جارہی ہے۔عوامی بیداری کے لئے جرائم کی روک تھام والا مہینہ منایا جارہا ہے۔اس طرح کے جرائم پر روک تھام کے لئے پولیس کاایک خصوصی شراوتی دستہ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔اس دستے سے متعلق چار ٹیمیں کاروار، بھٹکل، سرسی اور ڈانڈیلی میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ سوشیل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پوری طرح نگاہ رکھی جارہی ہے۔خاص کر خاتون کے ساتھ ظلم و زیادتی کے معاملات پر توجہ دی جارہی ہے۔ اس ضمن میں فی الحال 6 چھوٹے معاملات داخل کرکے ان پر کارروائی کی گئی ہے۔
ایس پی شیوپرکاش نے بتایا کہ سائبر جرائم میں دو طرح کے معاملات ہوتے ہیں۔ ا ن میں سے ایک معاشی جرائم سے متعلق ہے جس میں او ٹی پی حاصل کرکے، ملازمت دینے کے نام پر، کمرشیل ویب سائٹ کے نام پریا بھاری انعام ملنے کی خوش خبری دے کر لوگوں کے کھاتوں سے رقم نکالی یا وصولی جاتی ہے۔ دوسراطریقہ نقلی پروفائل بناکر خواتین کو اپنے جال میں پھانسنے اور ان کے ساتھ فریب کاری کرنے کا ہے۔ اس سلسلے میں خواتین اور لڑکیوں کے اندر بیداری لانے کی مہم چلائی جارہی ہے۔
ضلع ایس پی نے بتایا کہ سائبر جرائم پر روک تھام لگانے میں عوام کی طرف سے پولیس کا تعاون کیاجانا چاہیے۔ جس کسی کو ایسے معاملے کا علم ہو یا اس کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ پیش آیا ہوتو وہ شخص براہ راست سی ای ان پولیس اسٹیشن سے اس نمبر08383-222522 پر رابطہ قائم کرسکتا ہے۔ یا موبائل نمبر 9480805267بھی اطلاع دی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی پولیس اسٹیشن پہنچ کر بھی کیس درج کیا جاسکتا ہے۔