ممبئی،4؍ نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) cجسٹس چیلمیشور نے یہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا ہے جب ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کرنے کے لئے ایک قانون بنانے کی مانگ سنگھ پریوار میں بڑھتی جارہی ہے۔ کانگریس پارٹی سے منسلک تنظیم آل انڈیا پروفیشنلز کانگریس (اے آئی پی سی) کی جانب سے منعقد ایک بحث سیشن میں جسٹس چیلمیشور نے یہ تبصرہ کیا۔اس سال کے آغاز میں جسٹس چیلمیشور سپریم کورٹ کے ان چار سینئر ججوں میں شامل تھے جنہوں نے پریس کانفرنس کرکے اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے کام کاج کے طور طریقے پر سوال اٹھائے تھے۔جمعہ کو بحث سیشن میں جب چیلمیشور سے پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ زیر التوا رہنے کے دوران کیا پارلیمنٹ رام مندر کے لئے قانون منظور کر سکتی ہے، اس پر انہوں نے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ یہ ایک پہلو ہے کہ قانونی طور پر یہ ہو سکتا ہے (یا نہیں)دوسرا یہ ہے کہ یہ ہو گا (یا نہیں)مجھے کچھ ایسے معاملے پتہ ہیں جو پہلے ہو چکے ہیں، جن میں قانون سازی کے عمل نے سپریم کورٹ کے فیصلے میں رکاوٹ پیدا کی تھی۔ چیلمیشور نے کاویری پانی کے تنازعات پر سپریم کورٹ کا حکم پلٹنے کے لئے کرناٹک اسمبلی کی طرف سے ایک قانون منظور کرنے کی مثال دی۔انہوں نے راجستھان، پنجاب اور ہریانہ کے درمیان بین الریاستی آبی تنازعات سے منسلک ایسے ہی ایک واقعہ کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہاکہ ملک کو ان چیزوں کو لے کر بہت پہلے ہی واضح رخ اپنانا چاہیے تھا۔یہ (رام مندر پر قانون) ممکن ہے، کیونکہ ہم نے اسے اس وقت نہیں روکا۔