بنگلورو،11؍دسمبر(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا ہے کہ کرناٹک میں رات کا کرفیو یا سخت پابندیاں نافذ کرنے کا کوئی منصوبہ فی الوقت حکومت کے سامنے نہیں ہے۔ مزید ایک ہفتہ تک صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد ہی طے ہو گا کہ ریاست میں کسی طرح کا سخت قد م ضروری ہے یا نہیں۔ رواں سال کرسمس اور سال نو کے تہوار پر پابندیوں کے بارے میں ایک سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پر بھی حکومت نے اب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ ایک ہفتہ کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر اس کا بھی فیصلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہ تعداداس قدر خطرناک نہیں ہے کہ سخت پابندیاں نافذ کرکے عوام کو پریشانیوں میں ڈالا جائے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی موجودہ تعداد کی وجہ سے عوام کو دہشت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ہاسٹلوں میں کورونا کے کیسوں کی تعدا د میں اضافہ کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہاسٹلوں کے لئے حکومت کی طرف سے خصوصی رہنما خطوط وضع کئے گئے ہیں۔ وارڈنوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہاسٹلوں میں تمام طلباء کے لئے کھانے کا نظم بیک وقت نہ کیا جائے، بلکہ الگ الگ شفٹوں میں کھانے کا انتظام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تین افراد کے کورونا سے متاثر ہونے پر ان کے مقام کو کلسٹر قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا، اس سے پہلے یہ تعداد 10افراد کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ویکسین دینے کی شرح میں اضافہ کا فیصلہ لیا گیا ہے۔کیرلا اور مہارشٹرا کی سرحد کے علاقوں میں سخت احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے اور وہاں پر ٹیسٹنگ کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ آج کی کووِڈ مشاورتی میٹنگ سے وزیرصحت ڈاکٹر سدھاکر کی غیر حاضری کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سدھاکر نے پہلے ہی اپنی مصروفیت کے سبب اس میٹنگ سے غیرحاضررہنے کی ان سے اجازت لے لی تھی۔