لکھنو،30 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا) رپورٹس کے مطابق 104 سابق آئی اے ایس افسران نے اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک خط لکھ کر اس قانون پر اعتراض کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں سابق قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن، سکریٹری خارجہ نروپما راؤ اور بہت سے سابق سابق آئی اے ایس آفیسر،ٹی کے اے نیئر جیسے کئی آئی ایس آفیسر شامل ہیں۔
خط میں سابق افسران نے لکھا ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کے خلاف سازش ہے اور انہیں ہراساں کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ لوجہاد کا نام دائیں بازو کا نظریہ رکھنے والوں نے رکھا ہے۔ اس میں مسلمان مردمبینہ طور پر ہندو خواتین کو بہکاکران سے شادی کرتے ہیں اور پھر ان پر مذہب تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں۔ یہ صرف ایک من گھڑت کہانی ہے۔ یہ ایک طرف کا ظلم ہے جو آپ کی انتظامیہ نے نوجوانوں کے خلاف کیا ہے۔
سابق افسران نے اپنے خط میں گذشتہ ہفتے مراد آباد میں ہونے والے مبینہ واقعے کا ذکر کیا ہے۔ جس میں راجد اور سلیم کو مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کچھ کارکنوں نے مارا پیٹا تھا اور بعد میں اسے پرانے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔اس میں راشد نے پنکی نامی لڑکی سے شادی کی تھی اور وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔
یہ الزام ہے کہ بجرنگ دل کی مارپیٹ میں پنکی کا اسقاط حمل ہوگیا۔اسی طرح خط میں بجنور کیس کا بھی ذکر کیاگیاہے۔ اس میں ایک اقلیتی لڑکے پر زبردستی 16 سالہ ہندو لڑکی کا تبدیل مذہب کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جس کا بعد میں لڑکی اور اس کی ماں دونوں نے انکار کردیا تھا۔سابق عہدیداروں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے تبصرے کا بھی حوالہ دیا۔ جس میں یہ لڑکے اور لڑکی نابالغ ہیں اور اپنی مرضی سے شادی کر رہے ہیں، اس لیے اس میں کہیں سے بھی کوئی جرم نہیں ہے۔ عدالت نے گذشتہ ماہ ایک حکم دیا تھا کہ کسی کے ذاتی رشتے میں دخل دینا آزادی کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔