افریقہ: 18اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) مغربی آفریقہ کے ملک نائجر میں باغیوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں 14 بچوں سمیت 37 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد 48 گھنٹوں کے لئے ملک بھرمیں قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ مغربی نائجر اس وقت تشدد کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جہاں گاوں والوں پر اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق صرف رواں سال کے دوران جنگجو سینکڑوں شہریوں کا قتل کرچکے ہیں۔
ایک مقامی عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور موٹر سائیکلوں پر آئے تھے۔ وہ ڈیرے ڈائی گاوں میں داخل ہوئے۔ اس وقت بہت سے لوگ کھیتوں میں کام کررہے تھے۔ ایک مقامی صحافی نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے لوگوں کو کھیتوں میں ہی گھیر لیا اور ہر متحرک اشیاء پر فائرنگ کر دی۔
ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی طرف سے گزشتہ ہفتے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگجو صرف رواں سال کے دوران ہی ٹیلابیری اور پڑوسی ٹوہووا خطے میں حملے کر کے کم از کم 420 شہریوں کو ہلا ک کرچکے ہیں۔
ساحلی خطے کے لیے ایچ آر ڈبلیو کے ڈائریکٹر کورائن ڈفکا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ،”مسلح اسلام پسند گروپ نے مغربی نائجر میں شہری آبادیوں پربظاہر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ بہت سے معذور افراد اور متعدد بچوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جنہیں ان کے والدین سے چھین کر گولی مار دی گئی۔
انتہا پسندوں نے حملے کرکے اسکولوں اور گرجاگھروں کو بھی تباہ کردیا جبکہ ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہونے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔
نائجر، برکینا فاسو اور مالی کی سرحد پر واقع اس خطے میں سرگرم جنگجووں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بیشترکا تعلق القاعدہ اور اسلامی ریاست (آئی ایس) گروپ سے ہے۔
حکام کی جانب سے خطے میں سکیورٹی کی کوششوں کے باوجود اس طرح کے حملے اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ موٹر سائیکل پر سوار بندوق بردار واردات انجام دینے کے بعد سرحد پار کرکے مالی کے علاقے میں داخل ہوجاتے ہیں۔