ممبئی 8؍ مارچ (ایس او نیوز؍ پریس ریلیز) 7/11 ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ معاملے میں آج نچلی عدالت کا ریکارڈ مکمل تیار نہیں ہونے کی وجہ سے ہائی کورٹ نے معاملے کی سماعت ملتوی کردی اسی درمیان جمعیۃعلماء مہاراشٹر (ارشد مدنی)کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے سزا یافتہ ملزمین کے خلاف داخل اپیل میں وہ اپنا وکالت نامہ داخل کریں گے نیز جلد ہی نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف بھی ملزمین کی جانب سے اپیل داخل کردی جائے گی۔
ملزمین کو قانونی امداد فرتاہم کرنیوالی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس اے ایس گڈکری کے روبر و ریاستی حکومت کی جانب سے داخل اپیل سماعت کے لیئے پیش ہوئی جس کے دوران ریاستی حکومت کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ راجا ٹھاکرے نے عدالت کو بتایا کہ پیپر بک تیار کرنے کا عمل آخری مراحل میں ہے نیز کچھ دستاوزیزات کو پڑھنے کے قابل بنانے کی کوشش کی جارہی جو چند ہفتوں میں مکمل ہوجائے گی جس کے بعد اپیل سماعت کے لیئے تیار ہوجائے گی۔
اسی درمیان جمعیۃ علماء کی جانب سے مقرر کردہ وکلاء ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ گورو، ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ اور ایڈوکیٹ عبدالحفیظ نے عدالت کو بتایا کہ وہ ملزمین کے دفاع میں عدالت میں جلد ہی اپنا وکالت نامہ پیش کریں گے جس کے بعد عدالت نے انہیں دو ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی اور اس درمیان وکیل استغاثہ کو حکم دیا کہ جلد از جلدپیپر بک تیارکیئے جانے کے تعلق سے اقدامات کریں اور عدالت کو مطلع کریں۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزارا عظمی نے کہاکہ نچلی عدالت سے 12؍ ملزمین کو ملی پھانسی اور عمر قید کی سزاؤں کے خلاف جلد ہی اپیل ہائی کورٹ میں داخل کردی جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ اپیل کی تیاری آخری مراحل میں ہے اور اگلے چند ایام میں دفاعی وکلاء ہائی کورٹ میں پانچ پھانسی کی سزا یافتہ ملزمین اور دیگر عمر قید کی سزا یافتہ ملزمین کی جانب سے اپیلیں داخل کردیں گے۔
واضح رہے کہ خصوصی مکوکا عدالت کے جج وائی ڈی شندے نے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچ ملزمین کو پھانسی اور ۷؍ ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ ایک ملزم عبدالواحید دین محمد کو باعزت بری کردیا تھا۔