بھوپال30جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) مدھیہ پردیش کے مندسور میں نابالغہ کے ساتھ بدفعلی کے واقعہ پر دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاست کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے آج کہا کہ اس طرح کے معاملات میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھی فاسٹ ٹریک کاروائی ہونی چاہئے تاکہ اس طرح کے جرم کرنے والوں کو پھانسی کی سزا جلد دی جا سکے۔
چوہان نے یہاں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں کو بتایا کہ عصمت دری کے معاملات میں ہم نے ریاست میں فاسٹ ٹریک عدالت میں کارروائی کرنے کی فراہمی پر غور کیا ہے ۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے بھی اس قسم کی فراہمی کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ اس طرح کے جرم کرنے والے ملزمان کے خلاف فوری عدالتی کارروائی کر انہیں فوری پھانسی کی سزا دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جنسی زیادتی کرنے والے زمین پر بوجھ ہیں، یہ زمین پر زندہ رہنے کے قابل نہیں ہیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ یہ دردناک واقعہ ہے، ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں اور متاثرہ کی حالت پر مسلسل توجہ دے رہے ہیں۔ اس کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور میں ڈاکٹروں کے رابطے میں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف کافی ثبوت ہیں۔ اس معاملے کو فاسٹ ٹریک عدالت میں چلایا جائے گا اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ملزم کو جلد پھانسی کی سزا دلوائی جاسکے۔ واضح ہو کہ مندسور میں 26 جون کو آٹھ سالہ بچی کو اسکول سے باہر سے اغوا کرکے 20 سالہ نوجوان نے اس کے ساتھ عصمت دری کی اور اسے جان سے مارنے کی کوشش کرتے ہوئے بیہوشی کی حالت میں جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا۔ پولیس نے ملزم عرفان نامی نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔
مندسور میں لوگوں نے اس واقعہ کے خلاف کل شہر بند رکھا تھا۔مندسور کے مقامی مسلم حلقہ نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملزم نوجوان کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مدھیہ پردیش کی اسمبلی میں 12 سال سے کم عمر کی نابالغ لڑکی سے جنسی زیادتی کرنے والے ملزم کو پھانسی کے سزا دینے کا قانون کرنے والا بل متفقہ طور پر گزشتہ سال منظور کیا جا چکا ہے ۔