بھٹکل 9/اپریل (ایس او نیوز) کورونا وائرس کی وباء کو مسلمانوں کی سازش قرار دینے اور ان کے سماجی بائیکاٹ کرنے کی ملک کے مختلف حصوں میں جو لہر چل پڑی ہے اور بالخصوص ریاست کرناٹک کے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے داخلے اور آمد ورفت پر پابندی کے جو پوسٹرس، بیانرس اور آڈیو مسیج عام ہورہے ہیں اس سے سماج میں ایک عجیب تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
اس فرقہ وارانہ مہم کا تو ڑ کرنے کے لئے نیشنل ہائی وے 66پرمینگلور کے توکٹو کے قریب کولاپو میں نئے انداز کے پوسٹرس چپکائے ہوئے نظر آئے جس میں لکھا ہے کہ ”ہند و بیوپاریو! ہمارے گاؤں میں آؤ اور بیوپار کرو۔“یہ پوسٹرس’مسلمان برادران کولاپو‘ کی جانب سے لگائے گئے ہیں جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہندو، مسلم، عیسائی تمام مذاہب کے لوگوں کو لاک ڈاؤن کے دوران اگر کسی بھی قسم کی ضرورت پیش آتی ہے تو ہم تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہندوبیوپاریو کو ہمارے گاؤں میں پوری آزادی کے ساتھ داخل ہونے اور کاروبار کرنے کی اجازت ہے۔ 
یہ پوسٹر سوشیل میڈیا پ
ر بھی اسی طرح وائرل کیے گئے ہیں، جیسے اس سے قبل ایک گاؤں کے فرقہ وارانہ منافرت والے پوسٹر عام کیے گئے تھے جس میں لکھا تھا کہ ہمارے گاؤں میں مسلمان بیوپاریو کا داخلہ ممنوع ہے۔ منفی انداز کے پوسٹر کا جواب مثبت انداز میں دینے اور سب کے ساتھ تعاون کا پیغام دینے والے اس پوسٹر کی بہت زیادہ ستائش ہورہی ہے۔