ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو: محکمہ اقلیتی بہبود کے فنڈ میں ریاستی حکومت کی طرف سے کی کئی بھاری کٹوتی کے خلاف مسلم دانشوروں نے وزیر اعلیٰ کے نام دیا میمورنڈم

منگلورو: محکمہ اقلیتی بہبود کے فنڈ میں ریاستی حکومت کی طرف سے کی کئی بھاری کٹوتی کے خلاف مسلم دانشوروں نے وزیر اعلیٰ کے نام دیا میمورنڈم

Thu, 10 Dec 2020 20:49:48    S.O. News Service

منگلورو 10؍ دسمبر (ایس او نیوز) ریاستی بی جے پی حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے فنڈ میں بھاری کٹوتی کی  ہے جس سے مسلم طلبأ بری طرح متاثر ہورہے ہیں ۔ ریاستی حکومت کے اس اقدام  کی مذمت کرتے ہوئے مسلم دانشور ریاست گیر پیمانے پر اپنا احتجاج درج کرواتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے نام میمورنڈم دے رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر منگلورو میں بھی مسلم دانشوروں کے ایک وفد نے جنوبی کینرا کی  ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایم جی روپا کے توسط سے وزیرا علیٰ کے نام میمورنڈم دیا۔

  میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی سابقہ حکومت کی طرف سے اقلیتی عوام کی فلاح و بہبود کے لئےمختلف اسکیموں کے تحت جو فنڈ مختص کیا تھا وہ   1,870 کروڑ روپے  تھا ۔ مگر موجودہ بی جے پی حکومت نے اس میں جو تخفیف کی ہے اس کے بعد یہ فنڈ صرف 1000کروڑ روپے بن کر رہ گیا ہے۔اس میں  اندرون ملک تعلیمی وظائف،  پری میٹرک ، پوسٹ میٹرک ، میرٹ کم مینس اسکالرشپ اور  پی ایچ ڈی اور ایم فل جیسی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے علاوہ بیرونی ممالک میں تعلیم کے  پانے والے کے لئے دی جانے والی اسکالر شپ وغیرہ شامل ہے۔

 میمورنڈم میں نشاندہی کی گئی ہے کہ  ریاستی حکومت کی جانب سے کووڈ وبا کا مسئلہ سامنے رکھ کر ایک طرف لاکھوں   پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک طلبہ کو اسکالرشپ جاری نہیں کی گئی ہے اور درخواستیں جمع کروانے کےباوجود اس پر توجہ نہیں دی جارہی ہے تو دوسری طرف مرکزی حکومت کی اسکیم میرٹ اینڈ مینس کے تحت طے شدہ فنڈ میں ریاستی حکومت اپنا حصہ ادا نہیں کررہی ہے۔ ریاست میں اس وقت  پی ایچ ڈی اور ایم فل کررہے اقلیتی طبقے کے تقریباً 300ریسرچ اسکالرس  ہیں اور ان کی ماہانہ اسکالرشپ میں بھاری کٹوتی کردی گئی ہے اور ان کے لئے درکار فنڈ  کی     9 کروڑ  روپے جیسی معمولی رقم بھی حکومت نے روک رکھی ہے،جس سے ان کے لئے ریسرچ جاری رکھنا ناممکن ہوگیا ہے۔

 میمورنڈ م میں ریاستی حکومت کے اس رویے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہےکہ سوائے محکمہ اقلیتی بہبود کو چھوڑ کر  دوسرے کسی بھی محکمہ کے فنڈ میں اس طرح کٹوتی نہیں کی گئی ہے ۔اس سے  اقلیتوں کے تعلق سےحکومت کی نیت  اور اس کی سوچ ظاہر ہورہی ہے۔ اور حکومت کا یہ سلوک کسی بھی قیمت پر قابل برداشت نہیں ہے۔ 

 میمورنڈ م میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی نئی اسکیم جاری نہیں کی جاتی ہے تو کم ازکم جو منصوبے اور اسکیمیں پہلے سے موجود ہیں ان سے اقلیتوں کو محروم نہیں کرنا چاہیے اور اس کے ضروری  فنڈس کو فوری طور پر جاری  کیا جانا چاہیے۔

 ایڈیشنل ڈی سی ملاقات کرنےو الےاس وفد میں  انٹلکچول فورم کے سیکریٹری منیر کاٹاپلّا، میونسپل کارپوریشن کے سابق ڈپٹی میئر محمد کنجت بیل، سابق تعلقہ پنچایت رکن این ای محمد، سوشیل ورکر باوا پدرنگی، عبدالقادر ایڈا، امتیاز پانڈیشور، نوشاد بینگرے وغیر ہ موجود تھے۔


Share: