منگلورو22؍دسمبر (ایس او نیوز) ضلع ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو منگلورو ریفائنری اینڈ پیٹرو کیمیکل لمیٹڈ(ایم آر پی ایل) کے توسیعی منصوبے کے خلاف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھوپال گیس اخراج سانحہ کے متاثرین کے لئے جدوجہد کرنے والے ڈاکٹر ستی ناتھ سارنگ نے کہا کہ اس طرح کے کارخانوں کا جال بچاتے ہوئے شہریوں کی زندگی سے کھلواڑ نہ کیا جائے اور ضلع جنوبی کینرا میں ایک اور بھوپال سانحہ کا موقع نہ دیا جائے۔
ایم آر پی ایل کے توسیعی منصوبے کی مخالفت میں یہ اجلاس ’کراولی کرناٹکا جنا ابھیوردّی ویدیکے ‘کے پرچم تلے ’تُولو ناڈو بچاؤ‘ عنوان سے منعقد کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر ستی ناتھ سارنگ نے 1984میں ہوئے بھوپال گیس اخراج کے المیہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی10ہزاسے زیادہ انسانوں کی موت کے علاوہ اس ٹریجڈی سے معذورو متاثر ہونے والے 5لاکھ سے زیادہ افرادکے بارے میں مکمل روشنی ڈالی۔اور کہا کہ اس طرح کا المیہ منگلورو میں کبھی نہ ہونے پائے اس کا خیال رکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھوپال میں گیس کے اخراج کا سبب بننے والے یونین کاربائیڈ کے کارخانے میں منگلور و کے ایم آر پی ایل کارخانے بہت سی باتیں مشترک ہیں اور اس طرح کا سانحہ یہاں بھی رونما ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر سارنگ نے کہا’’مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اس طرح کے سرسبز وشاداب علاقے میں عوام نے ایسے خطرناک کارخانوں کی تعمیر کے لئے کیسے اجازت دی۔بھوپال میں بھی عوام سے دوائیاں تیار کرنے کی بات کہہ کر کیمیکل کارخانہ تعمیر کیا گیا تھا۔ مگر اس سے ہونے والے سانحے سے لاکھوں افراد کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔اور آج بھی اس کے اثرات وہاں کے عوام کی زندگیوں میں دیکھے جارہے ہیں۔اس سانحہ سے وہاں کے عوام کی زندگیاں پوری طرح تباہ ہوگئیں۔اور اس طرح کے حالات سے یہاں منگلوروکے عوام کو بچانا ضروری ہے۔اس سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اس منصوبے کے خلاف عوام پوری طاقت سے کھڑے ہوں اور زبردست احتجاجی مورچہ قائم کیا جائے۔‘‘
زراعتی زمین تحفظ کمیٹی کے نائب صدر ولیم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایم آر پی ایل کارخانے میں چوتھے مرحلے کی توسیع منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کرنے کا مقصد یہی ہے کہ قدرتی ماحول، زرعی زمینات، جنگلات اور ہماری ثقافت کا ہم تحفظ کرسکیں۔