نئی دہلی،4فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) یکم فروری کو جب وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی صحت انشورنس کی منصوبہ بندی کااعلان کیا تو سننے میں یہ بے حد کشش منصوبہ لگا لیکن جلد ہی اس منصوبہ کی درستگی پر سوال بھی کھڑے ہو گئے۔ مرکز نے اس کااعلان تو کر دیا لیکن اب وہ ریاستیں جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے وہ اس سے کافی ناراض ہیں کیونکہ اس منصوبہ بندی کو لاگو کرنے کے لئے مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستوں کو بھی کافی پیسہ اس کے لئے دیناہو گا۔ہیلتھ انشورنس اسکیم میں 50 کروڑلوگوں کو 5 لاکھ سالانہ انشورنس کے پورے اخراجات مرکزی حکومت اپنے کندھوں پرنہیں لے گی۔ریاستی حکومتوں کو بھی 10 سے 40 فی صد کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ غیر بی جے پی ریاستیں حکومت کے اس انشورنس پلان کے حق میں نہیں ہیں۔وہیں نیتی آیوگ نے کہا ہے کہ اس منصوبے کو لاگو کرنے کے لئے 11 ہزار کروڑ روپے لگیں گے۔ کیرل اورتریپورہ میں حکمران سی پی ایم کا کہنا ہے کہ ریاستوں میں ان کے اپنے صحت بجٹ اور منصوبے ہیں۔ سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتا رام یچوری نے کہاکہ مرکزی حکومت کا پیش کردہ انشورنس منصوبہ غیرقانونی ہے اور اس کابوجھ ریاستی حکومتوں پر نہیں ڈالاجاناچاہیے۔