نئی دہلی،25دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بابا رام دیو نے آج نصیر الدین شاہ کے بیان پر اپنی’ رائے‘ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں جتنی سماجی رواداری ہے اتنی دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہے،مگر رام دیو یہ بھول گئے کہ یہی وہ ملک ہے جہاں گائے کے نام پر ایک مخصوص طبقہ کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے۔ رام دیو نے کہا کہ نصیر الدین شاہ نے جو بولا ہے وہ شرمناک ہے۔واضح ہو کہ بلند شہر میں گوکشی تشدد کے معاملے پر نصیرالدین شاہ کے بیان کے جواب میں رام دیو نے کہا کہ گائے کے ساتھ انسانیت بچنی چاہئے اور بھار ت میں نفرت نہیں ہونی چاہئے۔نصیرالدین شاہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بھارت کا کھاتے ہیں ،بھارت سے ان کا وقار، فخر، شہرت اور جلال ہے اور پھر بھی وہ’ بھارت ماتا‘کو گالی دینے لگ جاتے ہیں۔ رام دیو نے کہا کہ بھارت کو کیسے عدم تحمل والا ملک قرار دے سکتے ہیں،بھارت میں کتنی رواداری اور آزادی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ شرپسند عناصرایسے واقعات کو جنم دیتے ہیں ان کے خلاف انتظامیہ کو جانچ پڑتال کرنی چاہئے اور انہیں سزا دینی چاہئے۔ لیکن کسی ایک واقعہ کے لئے پورے ملک کو کٹہرے میں لانا ملک کے ساتھ ناانصافی، دھوکہ اور ’’غداری‘‘ ہوگی۔ ہنومان کی ذات برادری میں تقسیم کرنے کی سیاست پر رام دیو نے کہا کہ ویدک دور میں ذات برادری کا نظام نہیں تھا ۔ ایک طرف ہم ذات برادری سے آزاد ہندوستان کی بات کرتے ہے وہیں دوسری طرف اپنے ’خداؤں‘ کو ذات کے جھمیلے میں ڈال کر باپ دادا کی توہین کرتے ہیں۔ یہ بہت غیر شائستہ ہے. ایسا نہیں کہنا چاہئے۔